برسلز/ نئی دہلی/ واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث عائد لاک ڈاؤن، کرفیو اور دیگر پابندیوں میں اب نرمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ بلجیم کی حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں نرمی کے منصوبوں کا اعلان کر دیا۔ 4 مئی سے اسپتالوں کو معمول کا کام کرنے کی اجازت ہوگی، جب کہ مئی کے وسط سے زیادہ تر کاروباری مراکز کھولنے اور تعطیلات کے اہم مقامات سمجھے جانے والے ساحلی یا جنگلات والے علاقوں میں سفر کی اجازت دے دی جائے گی۔ اس کے بعد 8جون کو ریستوران عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے۔ تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرنے والے شہریوں کو حفاظتی ماسک پہننے ہوں گے۔ دوسری جانب بھارت نے محلے اور گلیوں میں قائم دکانوں کو کھول کر ملک گیر سخت تالا بندی کو کم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، تاہم بعض حفاظتی پابندیاں اپنی جگہ برقرار رہیں گی، جیسے کہ سماجی دوری اور دکانوں میں کم از کم 50 فیصد افراد کو چہرے پر ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق شاپنگ مالز میں دکانیں بند رہیں گی۔ اسی کے ساتھ بعض متاثرہ علاقوں میں قواعد میں نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ 7 روز سے کورونا پوزیٹو کیسوں میں کمی آ رہی ہے اور وہ ملک کو دوبارہ کھولنے کے لیے بہت پُرجوش ہیں۔ امریکی صدر نے کورونا ٹاسک فورس کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ 8کروڑ امریکیوں کو امداد مل چکی ہے۔ اب ملکی معیشت کی تعمیر نو کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایف ڈی اے نے گھروں میں ٹیسٹ کرنے کی ڈیوائس کی منظوری دے دی ہے۔ پریس کانفرنس میں نائب امریکی صدر مائیک پنس نے کہا کہ ان کی تمام گورنروں کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کانفرنس کال پر 50 ریاستوں کے گورنر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں ڈرائیو تھرو کورونا ٹیسٹنگ کی سہولیات کام کر رہی ہیں۔ ہم کورونا ٹیسٹنگ کی سہولیات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
بلجیم میں لاک ڈائون اٹھانے کی منصوبہ بندی ،بھارت میں نرمی شروع
القمر
