ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب میں مختلف جرائم پر عائد کوڑے مارنے کی سزا کو ختم کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق سعودی عدالت عظمیٰ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ ملک میں کوڑے مارنے کی سزا کو قید، جرمانے یا دونوں سے تبدیل کیا جائے گا۔ سعودی عدالتی دستاویز کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کے فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی ہدایت پر کیا گیا ہے، جب کہ یہ اصلاح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان السعود کی براہِ راست نگرانی میں کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق سے متعلق اصلاحات میں توسیع ہے، جو شاہ سلمان کی ہدایات اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں متعارف کرائی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں کئی جرائم پر کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے اور جج اسلامی تعلیمات کے مطابق مجرمان کو سزا سناتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ماضی کے ایسے کئی کیس سامنے رکھے تھے، جن میں سعودی ججوں نے ہراساں اور سرعام نشہ کرنے سمیت کئی جرائم میں مجرمان کو کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔ ریاست کے حمایت یافتہ انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی) کے سربراہ عواد العواد نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ اصلاح سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ایجنڈا میں یادگار قدم ہے اور سلطنت میں کی گئیں کئی حالیہ اصلاحات میں سے ایک ہے۔ انسانی حقوق واچ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم کوگلے کا کہنا ہے کہ یہ خوش آیند تبدیلی ہے، لیکن اسے کئی سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی راہ میں اس کے غیر منصفانہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے اب کوئی رکاوٹ نہیں۔ سعودی عرب میں آخری بار کوڑے مارے جانے کی سزا 2015ء میں اس وقت شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھی، جب ایک بلاگر ریف بداوی کو سائبر کرائم اور توہین مذہب کے جرم کی سزا پر سرعام کوڑے مارے گئے تھے۔ سزا کے مطابق اسے ہفتہ وار مار کے دوران ایک ہزار کوڑے لگائے جانے تھے، لیکن عالمی غم و غصے اور کوڑے لگانے کی سزا کے دوران ان کی حالت غیر ہو جانے کے باعث ان کی سزا پر مکمل عمل کو روکنا پڑا تھا۔ عرب امور کے ماہر سیبسٹین اوشر کا اسلامی سزا کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا ہیکہ یقینا کوڑوں کی سزا نے عالمی سطح پر سعودی عرب کی منفی تصویر کشی کی تھی، تاہم اس کارروائی سے لگتا ہے کہ اب اس سزا کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب میں مختلف قسم کے جرائم پرکوڑے مارنے کی سزا دی جاتی تھی، جب کہ دیگر جسمانی سزائیں جن میں چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے، سزائے موت یا قتل اور دہشت گردی کے جرم میں سر قلم کرنے کی سزائیں ہیں، ان کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
سعودی عدالت عظمیٰ نے کوڑوں کی سزا ختم کردی
القمر
