English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یورپی ممالک کا زر ضمانت کے بدلے پناہ دینے پر غور

القمر

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی ممالک پناہ کے خواہش مند تارکین وطن کو رقم جمع کرا کر اپنے ہاں آنے کی اجازت دینے پر غور کررہے ہیں۔ ماہرین نے افریقی ممالک سے روزگار کے لیے یا معاشی مہاجرین کے لیے ایک ایسا نیا ماڈل پیش کیا ہے، جس کے ذریعے یہ افراد یورپی ممالک میں آسکیں گے۔ اس منصوبے کا ایک نمایاں پہلو زر ضمانت کے بدلے روزگار کے عارضی ویزے کا اجرا ہے۔ یہ اس طرح سے کام کرے گا کہ براعظم افریقا کے شہری یورپی یونین کے اپنے من پسند ملک میں ضمانت کے طور پر مخصوص رقم جمع کرائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں اس ملک میں ایک خاص مدت کے لیے رہنے اور کام کرنے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ اس دوران یہ افراد کسی ایسے حکومتی رعایتی منصوبے سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، جس میں ٹیکس کی رقوم کا عمل دخل ہو۔ تاہم مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں اپنے افریقی ملک واپس جانا ہو گا، جس کے بعد انہیں امانت کے طور پر رکھائی گئی ان کی رقم واپس مل جائے گی۔ ماہرین کے مطابق ان مہمان کارکنوں کو بار بار ایسا کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ وہ اسے سرکلر ہجرت کا نام دے رہے ہیں۔ اس کونسل کی سربراہ پیٹرا بینڈل کہتی ہیں کہ اس ضمانتی ماڈل کے دوران دو چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ طریقہ کار ان افراد کو غیر قانونی کے بجائے ہجرت کرنے کا ایک باضابطہ راستہ فراہم کرے گا۔ انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ کر اکثر یہ افراد اپنی زندگی خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔ براعظم افریقا میں ہجرت پر مجبور اور بے دخل کیے جانے والوں کی مجموعی تعداد 3کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ ان میں پناہ گزین، داخلی طور پر گھر بار چھوڑنے والے اور واپس لوٹنے والے بھی شامل ہیں۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دوسری اہم چیز یہ ہے کہ اس طرح روزگار کی یورپی منڈی کم تعلیم یافتہ اور عام کام کرنے والے افراد کے لیے بھی کھل جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ آجرین کی انجمنیں کئی بار اس طرح کے مطالبات دہرا چکی ہیں۔ ماہر ڈانیئل تھیم کہتے ہیں کہ اس میں سب کا فائدہ ہے، یعنی آبائی ملک وہ جس ملک میں آ رہا ہے اور خود اس تارک وطن کا۔ اس طرح عارضی ہجرت سے ہر ایک کا فائدہ ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے