واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر کورونا وائرس پھیلانے کے الزامات دہراتے ہوئے نئے ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔ امریکی صدر نے چین سے درآمد ہونے والے ٹرانزٹ سسٹم سے لے کر گیمنگ ڈیوائسز، وینٹی لیٹرز اور فوجی سازو سامان پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کورونا وائرس پر چین سے ہونے والی لفظی جنگ کے بعد مختلف جوابی اقدامات کی تیاری کررہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے کورونا وائرس کے معاملے پر چین کے ساتھ تلخی مزید گہری ہوگئی ہے، جب کہ وائرس کے باعث ہزاروں امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اورلاکھوں متاثر ہوچکے ہیں۔ امریکی عہدے داروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین کے خلاف کئی اقدامات زیر بحث ہیں۔ تاہم انہوں نے پہلے مرحلے میں طے کیے گئے اقدامات ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجاویز ٹرمپ کی قومی سلامتی امور کی ٹیم اور خود صدر کی سطح پر طے نہیں ہوئی ہیں۔ چین پر نئی معاشی پابندیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ چین کو روکنے اور بری طرح نشانہ کیسے بنایا جائے، اس پر بات ہورہی ہے۔ جب کہ چین سے پرسنل پروٹیکشن ایکوپمنٹ کی درآمد کے باوجود واشنگٹن اپنے تعلقات میں سختی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ کورونا کے پھیلاؤ میں چین کے کردار پر انہیں تحفظات ہیں اور چین کے ساتھ معاشی معاہدوں پر یہ بات اولین ترجیح ہوگی۔ امریکی صدر نے کہا تھا کہ ہم نے ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت انہوں نے زیادہ برآمد کرناتھا اور وہ کررہے ہیں، لیکن اب وائرس کے بعد یہ بات ثانوی ہوگئی ہے، کیوں کہ وائرس کی صورت حال ناقابل قبول ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے چندعہدے داروں نے امریکی قرضوں کو منسوخ کردیا جائے، تاکہ کورونا کے خلاف چین کے اقدامات میں رکاوٹ پیداہو۔
ٹرمپ کی چین پر نئے ٹیکس لگانے کی دھمکی
القمر
