؎لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ میں یکجہتی مہم برائے فلسطین نے کہا ہے کہ اس نے ہائی کورٹ میں حکومت کی طرف دائر کردہ ایک اپیل میں اسے شکست دے کر قانونی فتح حاصل کرلی ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ میونسپل پنشن فنڈز فلسطینیوں پر تشدد میں ملوث کمپنیوں اور اسرائیل کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں میں کی گئی سرمایہ کاری واپس نہ لے۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ میونسل پنشن فنڈ حکومت کو اپنی سرمایہ کاری کے حوالے سے جواب دہ نہیں۔ اگر پنشن فنڈز فلسطینیوں کے خلاف اور اسرائیل کے لیے کام کرنے والے فرموں کا معاشی بائیکاٹ کرتا ہے تو اسے ایسا کرنے کا حق ہے۔ فلسطینی یکجہتی مہم نے اسے عدالت کی طرف سے اپنی تاریخی اور عظیم الشان قانونی فتح قرار دیا ہے۔ مہم کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پنشن فنڈز کی اسرائیل میں سرمایہ کاری سے متعلق عدالتی فیصلہ ناصرف انصاف اور قانون کی فتح ہے، بلکہ یہ برطانیہ میں آزادی اظہار، جمہوریت اور قانون کی فتح ہے۔ عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کے 2016ء میں نافذ کردہ قواعد و ضوابط خاص طور پر برطانیہ میں فوجی صنعتوں کے حوالے سے لاگوکردہ ہدایات کالعدم ہوچکی ہیں۔ تاہم حکومت نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ یکجہتی تحریک نے ایک بار پھر ہائی کورٹ آف جسٹس میں اپیل کی، جس نے فیصلہ سنایا کہ مرکزی حکومت کی مقامی حکومتوں کو دی گئی ہدایات غلط ہیں اور بلدیات کو پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہے، کیوں کہ ان فنڈز کے مالک ریٹائرڈ ملازمین ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات