مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس

’’دینک بھاسکر نے الٰہ آباد میڈیکل ایسو سی ایشن کے بلڈ بینک پر ایک اسٹنگ آپریشن کیا ہے۔ اسٹنگ میں سامنے آیا ہے کہ الٰہ آباد میڈیکل ایسو سی ایشن بلڈ بینک کے آس پاس کوچنگ سنٹرس کا ہب ہے۔ یہاں بہت بڑی تعداد میں طلبا پڑھائی کو جاری رکھنے کے لیے اپنا خون فروخت کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ شرم کی بات مزید کچھ نہیں ہو سکتی۔ ایسی حکومت کا کیا فائدہ جو بچوں کے لیے تعلیم کا انتظام نہ کر پائے، انھیں رہنے کے لیے ہاسٹل نہ دے پائے۔‘‘ یہ بیان آج ایک پریس کانفرنس میں اتر پردیش کانگریس انچارج ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے دیا۔ پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ کانگریس کے قومی میڈیا کوآرڈینیٹر ابھے دوبے بھی موجود تھے۔ دونوں نے ہی مرکز اور اتر پردیش میں برسراقتدار بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور طلبا کے ساتھ ہو رہے سلوک کے لیے انھیں ’آدم خور‘ تک کہہ ڈالا۔

ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے ’دینک بھاسکر‘ کے اسٹنگ آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’’رپورٹر کو پتہ چلا کہ الٰہ آباد میڈیکل ایسو سی ایشن کے بلڈ بینک کے پاس دلالوں کا بول بالا ہے۔ ان دلالوں کو پتہ ہوتا ہے کہ ہاسٹل میں رہنے والے کون سے طالب علم معاشی طور پر بدحال ہیں اور کن طلبا کو پیسوں کی ضرورت ہے۔‘‘وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’یہ دلال طلبا کا فرضی ڈاکیومنٹیشن کراتے ہیں اور پھر ان کا خون فروخت کیا جاتا ہے۔ مجبور طالب علم یہ سب صرف تعلیم جاری رکھنے اور ہاسٹل کی فیس بھرنے کے لیے کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اسٹنگ آپریشن میں معلوم ہوا کہ طالب علم ایک ماہ میں 4-4 مرتبہ خون فروخت کر رہے ہیں اور انھیں ایک یونٹ خون کے لیے 4 سے 5 ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس معاملہ میں اتر پردیش کی بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’حکومت ڈینگیں تو بڑی بڑی ہانکتی ہے، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔‘‘

ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے ملک و ریاست میں طلبا کی بدتر حالت اور خودکشی سے متعلق کچھ اہم اعداد و شمار بھی میڈیا اہلکاروں کے سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اتر پردیش میں ہر ماہ تقریباً 132 طلبا خودکشی کرتے ہیں۔ 2024 میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 14488 طلبا نے خودکشی کی۔ ملک میں اعلیٰ تعلیم بہت مہنگی ہو چکی ہے اور بیشتر پروفیشنل کورسز پرائیویٹ کالجوں میں ہو رہے ہیں۔ ایسے میں درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل، انتہائی پسماندہ، پسماندہ طبقہ یا جنرل کیٹگری کے لوگ بھی بچوں کی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا پا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے اتر پردیش میں طلبا کی اسکالرشپ میں تخفیف کا الزام بھی عائد کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’درج فہرست ذات کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ میں مرکز کی طرف سے 24-2023 میں 674 کروڑ 83 لاکھ روپے ملے تھے، 25-2024 میں اسے نصف کر کے 366 کروڑ 2 لاکھ روپے کر دیا گیا۔‘‘ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ ’’وزیر اعلیٰ یوگی بھی اس بات کو قبول کر چکے ہیں کہ ریاست میں 5 لاکھ کے قریب بچے اسکالرشپ سے محروم رہ گئے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کے بیشتر کالجوں میں یہی حالات ہیں۔ طلبا کے اسکالرشپ درخواستوں کو قصداً نامنظور کیا جاتا ہے یا پھر لٹکا دیا جاتا ہے۔ ایسے میں جب اسکالرشپ نہیں ملتی تو مجبوری میں بچے تعلیم ترک کرنے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔‘‘

اتر پردیش کانگریس انچارج نے اتر پردیش میں داخلہ امتحانات کے گھوٹالوں کا ذکر کرتے ہوئے یوگی حکومت کو ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ انھوں نے مختلف امتحانات میں ہوئی مبینہ بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’یکم فروری 2018 میں یو پی پی سی ایل آن لائن انٹرنس امتحانات میں ایس ٹی ایف نے دھاندلی پکڑی، جولائی 2018 میں یو پی پی ایس سی-ایل ٹی گریڈ ٹیچر بھرتی پیپر لیک ہوا، ستمبر 2018 میں یو پی ایس ایس ایس سی نل کوپ آپریٹر بھرتی امتحان میں ہندی کا پیپر سوشل میڈیا پر لیک ہوا، 20-2019 میں 69000 اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی میں دھاندلی، جون 2020 میں ٹاپر سمیت کئی ملزم گرفتار ہوئے۔‘‘ امتحانات میں مزید بے ضابطگیوں کی جانکاری دیتے ہوئے انھوں نے اتر پردیش کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ ’’28 نومبر 2021 میں یوپی ٹیٹ 2021 کا پیپر واٹس ایپ پر لیک ہوا، 30 مارچ 2022 میں یو پی پی ایس سی-پی سی ایس-جے (سول جج) 2022 میں مینس امتحان کی 50 کاپیاں بدلی گئیں، 11 فروری 2024 میں یوپی پی ایس سی-آر او/اے آر او ابتدائی امتحان کا پیپر لیک ہوا، 18-17 فروری 2024 میں یوپی پولیس کانسٹیبل انٹرنس امتحان کا پیپر لیک ہوا، 5 مئی 2024 کو نیٹ یو جی اور یو جی سی نیٹ امتحان میں گڑبڑی ہوئی، 17-16 اپریل 2025 کو یوپی ای ایس ایس سی اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی میں گڑبڑی اور پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا۔‘‘

پریس کانفرنس سے ابھے دوبے نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’تعلیم کے بدلے خون کا کاروبار کرنے والے آدم خوروں کا اقتدار یوپی اور مرکز میں ہے۔ اس گھناؤنے گناہ کے لیے ملک انھیں معاف نہیں کرے گا۔ یوپی میں ایک طرف طلبا اپنی تعلیم کے خرچ کے لیے خون فروخت کرنے کو مجبور ہیں، دوسری طرف بی جے پی حکومت پیپر لیک کر طلبا کا مستقبل فروخت کر رہی ہے۔‘‘ وہ موجودہ حالات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ایک اسٹنگ میں سامنے آیا تھا کہ نیٹ کا امتحان لیک ہوا چکا ہے اور سنجیو مکھیا نے 300 کروڑ میں نیٹ کا پیپر فروخت کر دیا، جسے بعد میں سی بی آئی نے کلین چٹ دے دی۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں کہ ’’اسی اسٹنگ میں بیدی رام کا نام بھی سامنے آیا تھا، جو یوپی میں رکن اسمبلی ہے اور ان کی پارٹی بی جے پی کو حمایت دے رہی ہے۔ اسٹنگ میں وپل دوبے کا نام بھی شامل تھا اور ان دونوں پر بھرتی امتحانات میں دھاندلی سے جڑے کئی مقدمات درج ہیں۔

ابھے دوبے نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ اتر پردیش کے ایک وزیر پبلک پلیٹ فارم پر طلبا سے کہتے ہیں کہ ’’جسے بھی امتحان میں کھیل کرانا ہے، وہ بیدی رام سے رابطہ کرے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کچھ اہم حقائق بھی سامنے رکھے اور بتایا کہ ’’گجرات کی کمپنی ایجوٹیسٹ کو یوپی پولیس کانسٹیبل بھرتی امتحان کا ٹھیکہ ملا۔ اس کمپنی کے مالک ونیت آریہ نے گھوٹالہ کیا اور پھر بیرون ملک فرار ہو گیا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ وہی کمپنی تھی جس نے بہار میں بی پی ایس سی امتحان کا ٹھیکہ لیا تھا اور اسے پہلے ’کانفیسک‘ نام سے جانا جاتا تھا۔ ’کانفیسک‘ نے بہار میں گھوٹالہ کیا تھا اور جب پکڑی گئی تھی تو اس نے اپنا نام بدل لیا تھا اور پھر یوپی میں ٹھیکہ لے لیا۔‘‘ ابھے دوبے کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑا گھوٹالہ ہے، جس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور اسے ختم کرنے کے لیے آواز بلند کرنی ضروری ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں