مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل

مدھیہ پردیش کے کونو نیشنل پارک میں 19 ماہ کے نر چیتے کو گولی مارے جانے کے معاملے میں ریاستی حکومت نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ محکمۂ جنگلات نے بدھ کے روز بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے محکمۂ جنگلات اور پولیس کے افسران پر مشتمل ایک خصوصی ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) تشکیل دی گئی ہے۔ یہ چیتا (کے این جی 22) منگل کی صبح علاج کے دوران مر گیا۔ اسے 25 اکتوبر کو شیورپور ٹیریٹوریل فاریسٹ ڈویژن کے کمپارٹمنٹ نمبر 748 سے بچایا گیا تھا۔ محکمۂ جنگلات کے بیان کے مطابق ہنگامی سرجری کے دوران اس کے جسم سے پیلٹ گن کے 5 چھرے نکالے گئے۔

پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (وائلڈ لائف) اور چیف وائلڈ لائف وارڈن سمیتا راجورا نے بتایا کہ سب سے پہلے چیتے کا ایکسرے کیا گیا، جس میں چیتے کے جسم کے مختلف حصوں میں کئی بیرونی اشیا پھنسی ہوئی نظر آئیں۔ اس کے بعد اسے جبل پور کی ناناجی دیشمکھ ویٹرنری سائنس یونیورسٹی کے شعبۂ ویٹرنری سرجری اور ریڈیولوجی میں تفصیلی جانچ اور انتہائی نگہداشت کے لیے بھیجا گیا۔ سی ٹی اسکین سے پتہ چلا کہ بیرونی اشیا نے چیتے کے اندرونی اعضا، عضلات و ہڈیوں کے نظام اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔ سمیتا راجورا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہنگامی سرجری کی گئی، جس کے دوران اس کے جسم سے بندوق کے 5 چھرے نکالے گئے۔

سرجری اور ویٹرنری ٹیم کی مسلسل کوششوں کے باوجود چیتے کو نہیں بچایا جا سکا۔ سمیتا راجورا نے کہا کہ واقعے کی تفصیلی جانچ کے لیے محکمۂ جنگلات اور پولیس کے افسران پر مشتمل ایس ٹی ایف تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ معلوم کیا جائے گا کہ کن حالات میں جانور کو گولی ماری گئی اور کیا اس کے لیے کوئی ذمہ دار ہے۔ محکمۂ جنگلات نے ابھی تک مشتبہ فائرنگ یا کسی ملزم کے بارے میں زیادہ تفصیل نہیں دی ہیں۔ کے این جی 22 کی موت کے ساتھ ہی ہندوستان میں چیتوں کی تعداد اب 58 رہ گئی ہے، جن میں سے 52 کونو نیشنل پارک، 4 گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچری اور 2 ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو میں ہیں۔ شیوپور ضلع میں واقع کونو ہندوستان میں چیتوں کی دوبارہ آبادکاری کے پروگرام کا اہم مرکز ہے۔ یہ پروگرام ستمبر 2022 میں نامیبیا سے چیتے لانے کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ بعد میں ہندوستان میں اس نسل کی مستقل آبادی بسانے کی کوششوں کے تحت جنوبی افریقہ سے بھی چیتے لائے گئے۔ ہندوستان میں 1952 میں چیتوں کو معدوم قرار دے دیا گیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں