English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مغربی کنارے پر قبضے کا بل اسرائیلی پارلیمان میں پیش

القمر

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل کی انتہا پسند حکمراں جماعت لیکوڈ کی رہنما اور رکن پارلیمان مائی گولان نے مقبوضہ وادیٔ اردن، بحیرۂ مردار اور مغربی کنارے کے علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی براہ راست خود مختاری کے قیام کے لیے مسودہ قانون پارلیمان میں پیش کردیا ہے۔ عبرانی ٹی وی چینل 7 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اقتصادیات ایلی کوہین اور دیگر ارکان پارلیمان نے بھی مائی گولان کے تیار کردہ مسودہ قانون کی حمایت کی ہے۔ جلد ہی اس مسودے پربحث ہوگی اور رائے شماری کے بعد اس پرعمل کیا جائے گا۔ پارلیمان میں مسودہ قانون پیش کرنے والی خاتون رکن پارلیمان مائی گولان کا کہنا ہے کہ غرب اردن، وادی اردن اور بحیرۂ مردار کے علاقے اسرائیل کے لیے سیاسی، سیکورٹی اور معاشی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی آباد ہیں۔ اس لیے یہ علاقے اسرائیل کا اٹوٹ انگ ہیں۔ ہمیں موجودہ حیثیت کو تبدیل کرکے تاریخ اور جغرافیائی مسائل کو درست کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ مجھے پورا وثوق اور یقین ہے کہ پارلیمان میں اس مسودہ قانون کی حمایت کے لیے حمایت موجود ہے اور تمام ارکان اس کی مکمل حمایت کریں گے۔ عبرانی ٹی وی چینل 7 کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے مجوزہ ’’صدی کے منصوبے‘‘ میں اسرائیل کو غرب اردن، بیت المقدس، وادیٔ اردن اور بحیرۂ مردار پر قبضے کی کلین چٹ فراہم کی گئی ہے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزحمت حماس کے سیاسی شعبے کے رکن حسام بدران نے کہا ہے کہ حماس غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کے جرائم سے قوم تنگ آچکی ہے۔ غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے شہریوں کو بھی پکڑ کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی قوتیں اسرائیلی دشمن کی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے لیے بھرپور اور تسلی بخش معاہدے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے