انقرہ ؍ طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی نے لیبیا میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ وفاقی حکومت کی فورسز کے لیے جدید اسلحہ اور نئی عسکری ٹیکنالوجی بھیج دی ہے، جس کا مقصد باغیوں کے خلاف کارروائی کرکے حفتر ملیشیا کی دارالحکومت طرابلس کی جانب پیش قدمی اور دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق حفتر ملیشیا کے ذرائع نے بتایا ہے کہ انقرہ نے حالیہ عرصے میں وفاقی حکومت کی فورسز کو جدید ٹیکنالوجی کا حامل جدید اسلحہ فراہم کیا ہے، جو ترکی سے آنے والے کارگو جہازوں کے ذریعے مصراتہ اور طرابلس کی بندر گاہوں تک پہنچایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسلحہ میں جدید ترین فضائی دفاعی نظام، زمین سے مار کرنے والے میزائل، کارروائی میں تعطل ڈالنے والی مشینیں اور بڑی نالی والے مارٹر گولے شامل ہیں جو کئی مقامات پر نصب کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ العنقا ماڈل کے ڈرون طیارے بھی شامل ہیں۔ باغی ملیشیا کے عسکری ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ ترکی تمام تر مادی، سیاسی اور عسکری وسائل کے ذریعے وفاقی حکومت کی فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں کی مسلسل مدد کررہا ہے۔ دوسری جانب عالمی برادری کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران انسانی بنیاد پر جنگ بندی اور لڑائی روکنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ لیبیا میں حفتر ملیشیا دارالحکومت پر قبضے کے لیے اپنی پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے اور اس دوران کئی مرتبہ باغیوں کی جانب سے جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات