تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران پر عائد اسلحہ کی فروخت پر پابندی میں توسیع کی گئی تو جوہری سمجھوتا ہمیشہ کے لیے اپنی موت آپ مر جائے گا۔ امریکا نے ایران کو روایتی ہتھیاروں کی فروخت پرعائد پابندی میں توسیع کے لیے مہم برپا کررکھی ہے۔ ایران کے خلاف اس پابندی کی مدت آیندہ اکتوبر میں ختم ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2015ء میں 6عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتے کے بعد ایران پر روایتی ہتھیاروں پر پابندی عائد کردی تھی۔ علی شمخانی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ اگر قرار داد 2231 سے پہلو تہی کی جاتی ہے اورایران پر ہتھیاروں کی غیر قانونی پابندی جاری رہتی ہے تو جوہری معاہدہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے جوہری سمجھوتے کے یورپی شراکت داروں کے بارے میں سوال کیا ہے کہ وہ اس صورت میں کیا کریں گے اور انہیں کیا کرنا چاہیے؟ وہ اپنے وقار کا تحفظ اور کثیرالجہتی کی حمایت کریں یا سبکی کو قبول اور یک طرفہ کی حمایت کریں۔ 3 یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی اس جوہری سمجھوتے کے شراکت دار ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی عشروں سے کشیدگی چلی آرہی ہے۔ ان کے درمیان مئی 2018ء میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ دستبرداری کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہواتھا۔ امریکی صدر نے بعد میں زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی مہم کے تحت ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عائد کردی تھیں۔ امریکا سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی یہ تشریح کررہا ہے کہ وہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے باوجود بدستور اس کا حصہ ہے اور وہ تہران کو روایتی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی میں توسیع کے حق میں ہے یا وہ اس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کردے گا۔
ایران کا ہتھیاروں پر پابندی میں توسیع پر سنگین انتباہ
القمر
