صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں ایک غیرسرکاری انسانی حقوق گروپ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے آخری 2 ہفتوں کے دوران ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں 4 خواتین اور 6 بچوں سمیت 28 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ عرب ٹی وی کے مطابق یمن فریڈم اینڈ ہیومن رائٹس نیٹ ورک کی رپورٹ میں حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16 اپریل سے 30 اپریل کے دوران حوثی باغیوں نے جنگ بندی کی 143 بار خلاف ورزی کی۔ اس دوران حوثی باغیوں نے 28 عام شہری قتل کردیے، جن میں 4 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں جب کہ درجنوں شہریوں کو اغوا کرلیاگیا۔ حوثیوں کی طرف سے زیادہ تر اشتعال انگیز واقعات مارب، حدیدہ، تعز اور ضالع کے الحشا کے علاقے میں پیش آئے۔ ان علاقوں میں حوثی ملیشیا کی طرف سے بھاری ہتھیاروں سمیت دیگر مختلف انواع کا اسلحہ استعمال کیا۔ حوثی ملیشیا کی گولہ باری سے 6 شہری مارے گئے جب کہ 3 شہریوں کو گھات لگا کرقتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ حوثیوں کی بچھائی بارودی سرنگوں سے بچوں اور خواتین سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ البیضا صوبے میں نماز تراویح ادا کرنے کے لیے مساجد جانے والے نمازیوں اور ائمہ پربھی فائرنگ کی گئی۔ عتمہ کے مقام پر 2 مساجد پر فائرنگ کے واقعات سامنے آئے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- غازی آباد: ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ کے 2 ٹاور منہدم کیے جائیں گے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دیا حکم
- مدھیہ پردیش: چیتے کو گولی مارے جانے کی تفتیش کے لیے ایس ٹی ایف تشکیل
- مرکز اور اتر پردیش میں ’تعلیم کے بدلے خون‘ کا کاروبار کرنے والے آدم خور برسراقتدار ہیں: کانگریس
- بھوپال میں کھلا ہندوستان کا پہلا ’کچرا کیفے‘، خشک کچرا دو اور کھانا لو
- ٹاٹا گروپ معاملہ پر راہل گاندھی کے بیان کو سیتارمن نے بنایا ہدف تنقید، جواب میں راہل نے داغ دیے 2 تلخ سوالات