English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی میں کئی بڑی مارکیٹیں اور مالز سیل۔غیر ذمے دارانہ طرز عمل برداشت نہیں،سندھ حکومت

القمر

کراچی(نمائندہ جسارت)کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے بنائے گئے ایس او پیز کی خلاف ورزیپر پولیس نے شاپنگ مالز، مارکیٹیں اور دکانیں سیل کرادیں‘ یونیورسٹی روڈ پر دکانداروں نے احتجاج کیا اور میڈیا نمائندگان سے بد تمیزی کی۔ وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ غیر ذمے دارانہ طرز عمل برداشت نہیں‘ ایک بار پھر سخت ترین لاک ڈائون نافذکرسکتے ہیں‘ انسانی زندگی کی قیمت پر کاروبار قبول نہیں۔ تفصیلات کے بدھ کو ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر پولیس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر زینب مارکیٹ، وکٹوریا سینٹر، دی انٹرنیشنل سینٹر، مدینہ سٹی مال، الحرم سینٹر گارڈن، گل پلازہ اور جیلانی سینٹر آرام باغ کو بند کرادیا۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر صدر نے کہا کہ دکانداروں اور خریداروں نے ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے اور نہ ہی سینیٹائزرز کا استعمال کیا جا رہا تھا‘ سماجی دوری کے اصول کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔اِدھر پولیس نے یونیورسٹی روڈ پر ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے پر تمام دکانیں بند کرا دیں۔ اس موقع پر دکانداروں نے سڑک بلاک کرکے احتجاج کیااور میڈیا نمائندگان سے بھی بد تمیزی کی۔تاجر رہنما عتیق میر نے اسسٹنٹ کمشنر سے مذاکرات بھی کیے۔ کمشنر کراچی افتخار شلوانی کے مطابق اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی پر گل پلازہ، زینب مارکیٹ سمیت شہر میں مختلف دکانوں کو بند کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع جنوبی میں زینب مارکیٹ اور گل پلازہ جبکہ ضلع شرقی میں دکانوں کے اندر ہجوم کے باعث لائم لائٹ، شو پلینٹ اور اسٹائلو کے اسٹورز کو بھی بند کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر صدر آصف رضا چانڈیو پولیس نفری کے ہمراہ فوارہ چوک کے قریب کاروباری مراکز پہنچے اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر زینب مارکیٹ، وکٹوریہ مارکیٹ، مدینہ سٹی اور انٹرنیشنل مارکیٹ کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کردیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ2 دن سے خلاف ورزیاں کی جا رہی تھیں‘ دکاندار ماسک پہن رہے تھے نہ سینیٹائزر کا استعمال کیا جا رہاتھا‘ اسی وجہ سے کارروائی کی گئی اور جہاں بھی ایس او پیز کی خلاف ورزی دیکھی جائے گی وہاں فوری ایکشن ہوگا۔ اس موقع دکانداروں نے نعرے بھی لگائے‘ پولیس اہلکاروں سے ان کی تلخ کلامی بھی ہوئی۔ دوسری کارروائی میں اسسٹنٹ کمشنر اسما بتول نے گل پلازہ کو بھی طے کردہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل کردیا۔ سیل کی گئی پانچوں مارکیٹوں میں ایک اندازے کے مطابق تقریبا 3 ہزار دکانیں ہیں۔دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ کاروباری اوقات اور دن محدود ہونے کی وجہ سے مارکیٹوں میں رش لگ رہا ہے‘ اگر رات میں مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دی جائے تو خریداروں کو بھی اطمینان ہوگا اور دکاندار بھی بہتر طریقے سے ایس او پیز پر عمل کرسکیں گے۔ علاوہ ازیںوزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے دوران طے شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد بہر صورت یقینی بنایا جائے‘ حکومت سندھ نے افہام و تفہیم کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا کہ صبح 8 تا شام5 بجے حفاظتی اقدامات کے ساتھ صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی جائے تاکہ انسانی جانوں کی حفاظت کے ساتھ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے مگر نرمی کے خاتمے کے ساتھ ہی مارکیٹوں سمیت بے شمار مقامات پر رش اور ایس او پیز کی عدم پابندی نظر آتی رہی ہے جو کہ تاجروں اور حکومتی معاہدے کے برخلاف ہے‘حکومت سندھ کسی بھی غیر ذمے دارانہ طرز عمل یا بے پرواہی کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتی اور انسانی زندگی کی قیمت پر کاروبار کا فروغ دانشمندی نہیں کہا جاسکتا۔ ناصر حسین شاہ نے عوام اور تاجر برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون میں نرمی کی رعایت کا بے جا فائدہ ہرگز نہ اٹھائیں بصورت دیگر حکومت سندھ ایک بار پھر سے مکمل اور سخت ترین لاک ڈائون کا نفاذ کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے