نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کورونا وائرس کی وبا کے سبب پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کردیا، تاہم اقتصادی ماہرین یہ پیکیج سننے کے بعد حیران وپریشان ہیں۔ مودی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ 20 لاکھ کروڑ روپے یعنی 266 ارب ڈالر کا یہ امدادی پیکیج بھارت کی جی ڈی پی کا 10 فیصد ہوگا اور اس سے مزدوروں، کسانوں، منظم وغیرمنظم شعبوں کے ملازمین اور چھوٹی ومتوسط صنعتوں کو یومیہ فائدہ ہوگا۔ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا نے اسے دنیا کا سب سے بڑا اور جامع امدادی پیکیج قرار دیا۔ وزیر اعظم مودی کے اعلان کے ساتھ ہی بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے کووڈ 19کی وجہ سے تباہ حال معیشت پر قابو پانے کے لیے امدادی پیکیجز کا اعلان کیا ہے۔ امریکا اپنی جی ڈی پی کا 13 فیصد اور جاپان 21 فیصد امدادی پیکیج کے طور پر اعلان کرچکے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے امدادی پیکیج کا اعلان ایسے وقت کیا ہے جب بھارت میں گزشتہ 50 روز سے لاک ڈاؤن جاری ہے جس کی وجہ سے تقریباً تمام اقتصادی سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں۔ کروڑوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ انہیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔ لوگ بڑے شہروں سے سیکڑوں میل کا سفر پیدل طے کرکے اپنے اپنے گاؤں پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں، اور اس کوشش میں اب تک درجنوں افراد، بھوک، سڑک اور ریل حادثات اور بیماریوں سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ بھوک سے مرنے والوں کی تعداد کورونا سے ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگی۔ بھارت میں 13مئی تک کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2415 ہوچکی ہے۔
مودی کا بڑے امدادی پیکج کا اعلان ماہرین پریشان
القمر
