نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ظفرالاسلام خان نے انکشاف کیا ہے کہ دلی فسادات کی آڑ میں میں پولیس نے 1300 مسلمانوں کو گرفتار کر رکھا ہے۔ یہ گرفتاریاں اور مسلمانوں کے خلاف تمام کارروائیاں حکومتی ایما پر ہورہی ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ مودی سرکار ہونہار مسلمان نوجوانوں کی زندگیاں برباد کرنے کے لیے انہیں نشانہ بنارہی ہے،جب کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول بنانے میں بھی وفاقی حکومت ہی کا ہاتھ ہے۔ شہریت قانون کے خلاف مسلمانوں کی تحریک پُرامن تھی، جسے بدنام کرنے اور فسادات کا الزام مسلمانوں کے سر تھوپنے کے لیے حکومت نے دانستہ کوششیں کیں۔ اپریل کے اواخر میں جب امریکی ادارے نے بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے مدنظر خاص تشویش والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا تو بھارت نے اس رپورٹ کو جانب داری پر مبنی اور بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت بتاکر مسترد کر دیا تھا۔اب ایک بار پھر جمعرات کے روز مذہبی آزادی سے متعلق امریکی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بھارت سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بجائے انہیں اپنے حقوق کے استعمال کی آزادی دے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے کورونا وائرس کے دوران بھارتی مسلمانوں کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور جمہوری اقدار پامال کی جارہی ہیں۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ کورونا کے بحران کے دوران اطلاعات ملیں کہ بھارتی حکومت مسلمان کارکنان کو گرفتار کر رہی ہے، جو شہریت قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ یہ وقت بھارت کو ایسے افراد کو نشانہ بنانے کے بجائے رہا کرنے کا ہے، جو احتجاج کے لیے اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کر رہے ہیں۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے ایک دوسری ٹویٹ میں کہا کہ بھارت میں 2019ء کے دوران مذہبی آزادی میں زبردست گرواٹ آئی، بدقسمتی سے کووڈ 19 کے بحران کے دوران بھی مسلمانوں کو قربانی کا بکرابنا کر اسی رجحان کا مظاہرہ کیا گیا۔اسی تناظر میں یو ایس سی آئی آر ایف بھارت کو انتہائی تشویش والے ممالک کی فہرست میں رکھنے کی سفارش کی ہے۔
مودی سرکار کے ایما پر 1300 مسلمان زیر حراست
القمر
