بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک)عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک بار پھر میزائل داغا گیا، تاہم حملے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہیں ہوا۔ عراقی فوج کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ بغداد ائرپورٹ کے نواح میں ایک میزائل گرا ہے، جسے جنوب میں واقع عرب خفیر کے مقام سے داغا گیا تھا۔ واقعے کے بعد عراقی فوج کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی کی کارروائی شروع کردی ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2019ء کے بعد راق میں امریکی عسکری اور سفارتی تنصیبات پر تقریباً 30 میزائل حملے کیے جا چکے ہیں۔نیا حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب امریکا اور عراق کی مسلح افواج باہمی تعاون کے سلسلے میں آن لائن مذاکرات کی تیاری کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں عرقی پارلیمان کے خارجہ تعلقات کمیشن کے رکن عامر فائز نے ترک خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عراق میں امریکی فوج کے مستقبل پر مذاکراتی دور آج سے شروع ہوگا۔ اس ٹیلی کانفرنس میں وزارت دفاع، خزانہ، پٹرول اور خارجہ کے نمایندے شریک ہوں گے۔ اہم اجلاس 2 روز تک جاری رہے گا۔ علاوہ ازیں عراق کے التاجی ہوائی اڈے پر امریکا کا ایک کارگو طیارہ رن وے پر حادثے کا شکار ہوگیا۔ مال بردار طیارے کو لینڈنگ کے دوران حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں سی 130 کو نقصان پہنچا۔
بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نیا میزائل حملہ
القمر
