دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) روس کے جنگی طیاروں نے شام کے علاقے ادلب کے رہایشی علاقوں پر ایک بار پھر بمباری کردی، جس کے نتیجے میں 3 شہری ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق روس طیاروں نے آبادی میں 20 سے زیادہ حملے کیے۔ ادلب کے شہری تحفظ کے نگراں مصطفی حج یوسف نے فضائی حملوں میں 3 کی ہلاکت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مزید کارروائی اور طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی، روس اور ایران نے 2017ء میں آستانہ اجلاس کے دوران علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جنگ بندی کے نفاذ پر اتفاق کیا تھا، تاہم اسد انتظامیہ اور اس کے حامیوں سمیت روس کی جانب سے حملوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اِردوان کا کہنا ہے کہ امریکا میں ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں کے پیچھے جن عناصر کا ہاتھ ہے، اُن کے شمالی شام میں کرد علاحدگی پسندوں کے ساتھ روابط ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق ترک صدر نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ ترک ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ رجب طیب اِردوان نے گفتگو کے دوران امریکی ہم منصب سے اس خدشے کا اظہار کیا کہ امریکا میں تشدد اور لوٹ مار کی کارروائیوں کے ذمے دار عناصر کا شمالی شام میں کردستان ورکرز پارٹی کے زیر انتظام کُرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ساتھ تعلق ہے، جسے ترکی نے دہشت گرد جماعت قرار دے رکھا ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے لیبیا کی موجودہ صورت حال سمیت دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ انقرہ حکومت شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو علاحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی کی شاخ قرار دیتی ہے اور یہ امریکی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز کا اہم حصہ ہیں۔
شام میں روسی طیاروں کے حملے‘ 3 شہری جاں بحق‘ دیگر 3 زخمی
القمر
