بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے امریکا اور روس کے درمیان جوہری اسلحہ کی تخفیف پر ہونے والی بات چیت میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس معاملے میں بلاوجہ چین کو گھسیٹ رہا ہے۔ امریکا اور روس کے درمیان جوہری اسلحہ کی تخفیف پر مذاکرات 22 جون کو ویانا میں ہوں گے۔ اس سلسلے میں امریکا چین پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ بھی اس میں شامل ہو، تاہم بیجنگ حکومت کا کہنا ہے کہ اسے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا چاؤننگ کے مطابق ہم نے غور کیا ہے کہ جہاں کہیں بھی یہ مسئلہ اٹھتا ہے، امریکا چین کو اس میں گھسیٹنے لگتا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اس معاملے میں چینی شمولیت سے متعلق نیک نیتی کا دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز اور غیر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تخفیف سے متعلق بات چیت کے لیے روس اور امریکا کے ساتھ چین کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ امریکا بیجنگ کو اس میں گھسیٹ کر اپنی ذمے داریاں نبھانے کے بجائے دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ہتھیاروں کے کنٹرول کے تعلق سے روس کے ساتھ مذاکرات کا آغاز نہیں کرتا اس وقت تک اس طرح کے اجلاس میں چین کی شمولیت کیسے ممکن ہے۔
امریکا جوہری مذاکرات میں بلاوجہ ہمیں گھسیٹ رہا ہے‘ چین
القمر
