بیجنگ،نئی دہلی،اسلام آباد(خبر ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)لداخ میں چینی فوج سے جھڑپ میں کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک،34 لاپتا۔ تفصیلات کے مطابق چین بھارت سرحدی علاقے لداخ کی وادی گلوان میں چینی فوج سے خونریز جھڑپ میں کرنل سمیت 20 بھارتی فوج ہلاک،متعدد زخمی اور افسران سمیت 34 لاپتا ہوگئے۔یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر رونما ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان کئی ہفتوں سے سرحد پر تناؤ جاری ہے اور فریقین کی جانب سے اضافے دستے سرحد پر تعینات کردیے گئے تھے۔ابتدائی طور پر بھارت کی جانب سے ایک افسر سمیت تین فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا گیا تھا لیکن بعدازاں بھارتی فوج نے 20فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔بھارتی فوج کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا کہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی ہونے والے مزید 17 فوجی انتہائی اونچائی پر شدید ٹھنڈ کی وجہ سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے جس کے بعد مرنے والے فوجیوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ واقعہ تبت کے عین سامنے واقع لداخ کے علاقے میں وادی گلوان میں پیش آیا۔بھارتی صحافی اشوک سوائن نے بھی کہا ہے کہ لداخ میں 20 فوجی مر چکے ہیں، مودی سرکار جو کہے اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہے۔بھارتی صحافی راہول کنول نے اس امکان کی تصدیق کی ہے کہ ایل اے سی پر چین اور بھارت کے مابین تناؤ بڑھتا جارہا ہے۔دوسری جانب برطانوی اخبار نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کو خود بھی اس بات کے بارے میں علم نہیں ہے کہ جوان زندہ ہیں یا مارے گئے ہیں۔ان لاپتا ہونے والے فوجیوں کے بارے میں حتمی طور پر یہ اطلاع موصول نہیں ہوئی کہ وہ زندہ یا مارے جاچکے ہیں۔چین کے اخبار گلوبل ٹائمز کے انگریزی ایڈیشن کے ایڈیٹر ہوژی جن نے تصدیق کی ہے کہ اس تصادم میں چین کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم بھارتیوں کو تکبرکا مظاہر نہیں کرنا چاہیے اور چین کے تحمل کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ چین بھارت سے تصادم نہیں چاہتا لیکن مقابلے سے گھبراتا بھی نہیں۔ ٹیلی گراف کا گلوبل ٹائمز کے ایک سینیئر رپورٹر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس تصادم میں چین کے پانچ فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔قبل ازیںبھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی نے لداخ میں اغواء بھارتی فوجیوں کو پہاڑ سے نیچے پھینکنے کی دھمکی دی ہے۔ خارجہ امور کی ماہر آرتی ٹیکو سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ لداخ میں بھارتی فوج کے کچھ آفیسر اور سپاہی لاپتا ہوگئے، ان فوجیوں کو چینی فوج نے اغواء کیا ہے، اگرپی ایل اے نے ان کو پہاڑ سے نیچے پھینکا توبہت نقصان ہوگا۔ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر جوہری طاقت کے حامل دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، یہاں باقاعدہ طور پر سرحد پر حد بندی نہیں کی گئی لیکن کئی دہائیوں سے یہاں ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا تھا کہ بھارتی فوجی دستوں نے دو مرتبہ سرحد پار کی، اشتعال انگیزی کی اور چینی اہلکاروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کی سرحدی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ ترجمان پیپلز لبریشن آرمی کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج سیدھے راستے پر آئے اور چینی فوج سے بات کرے، گزشتہ روز ہوئے مذاکرات میں طے پائے معاملات کی خلاف ورزی کی گئی، بھارتی فوجیوں نے اشتعال انگیزی کرنے میں پہل کی۔ کرنل ژہان شوئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان ہوئے مذاکرات میں کچھ معاملات طے پائے تھے تاہم پھر بھارتی فوجیوں نے اپنا وعدہ توڑتے ہوئے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی اور جان بوجھ کر اشتعال انگیز حملوں کا آغاز کیا۔بھارتی فوج کی ان حرکتوں کے نتیجے میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور بھارت کو جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی حرکتوں سے باز آ جائے۔ بھارتی فوج اشتعال انگیز روک کر سرحد پر چینی فوج سے بات چیت کرے اور سیدھے راستے پر آئے۔ ذرائع اور بھارتی خبر رساں ادارے اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے حالیہ ہفتوں میں جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے، بھارت نے ہار مانتے ہوئے انہیں چین کو ہی دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پیپلز لبریشن آرمی کی جانب سے جن علاقوں پر قبضہ کیا گیا ہے ان علاقوں میں شمال میں پین گونگ تسو جھیل اور اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل وادی گلوان کا اہم علاقہ بھی شامل ہے۔ ماضی قریب میں انڈیا اور چین کے درمیان اس علاقے میں چار جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن کسی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔دوسری جانب چینی فوج سے مار کھانے کے بعد مودی سرکار اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے پاکستان سے چھیڑ چھاڑ کا منصوبہ بنارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق راجھستان سیکٹر میں بھارتی فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت کی اطلاعات ملی ہیں۔جبکہ پاکستان نے بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے مسلح افواج کو بھارتی شرانگیزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے فری ہینڈ دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر لائن آف کنٹرول کے باگسر سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کی فائرنگ سے میٹیکا گائوں سے تعلق رکھنے والا شہری بابر حسین شدید زخمی ہو گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ کے دوران بھاری گولہ بارود اور خودکار ہتھیاروں کااستعمال کیا۔ زخمی ہونے والے شہری کو قریبی صحت مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔۔ بھارتی فوجی ترجمان نے الزام لگایا کہ ٹنگڈار سیکٹر میں ایل او سی پر پاکستانی فوج نے ہندوستانی چوکیوں کو نشانہ بنا کر بلا اشتعال فائرنگ شروع کردی۔دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے ٹنگڈار سیکٹر میں ایل او سی پر بلا کسی اشتعال کے ہندوستانی چوکیوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور دوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی ۔علاوہ ازیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل مجاہد انور خان نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرکا دورہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آئی ایس آئی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور سروسز چیفس کا استقبال کیا۔ علاقائی سلامتی کے امور پر فوجی قیادت کو لائن آف کنٹرول اور آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر جامع بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور سروسز چیفس نے قومی سلامتی کیلئے آئی ایس آئی کی انتھک کوششوں کو سراہا اور پیشہ وارانہ تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
چین سے جھڑپ‘ کرنل سمیت20بھارتی ہلاک‘ 34لاپتا
القمر
