واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے شامی صدر بشار الاسد اور اس کی اہلیہ اسما الاسد سمیت 39 شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دسمبر 2019ء میں ایک قانون کی منظوری دی گئی تھی، جس کے مطابق شام میں میں اسد رجیم، اس کی معاون کمپنیوں اور اداروں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرنے والی شامی شخصیات، روس اور ایران کے لیے کام کرنے والے اداروں پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جانی تھیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تصدیق کی ہے کہ شامی صدر، ان کی اہلیہ سمیت 39 اداروں اور شخصیات کو امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ اور محکمہ کارجہ کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر کے تحت شامی عوام کے خلاف بڑے پیمانے پر مظالم کا ارتکاب کرنے اور اس سلسلے میں استعمال ہونے والے تمام وسائل روکنے کے لیے معاشی اور سیاسی دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ ا یک روز قبل ہی امریکا نے شام میں اسد رجیم کو دھمکی آمیز انداز میں خبردار کیا تھا کہ وہ ملک میں جاری تنازع کے سیاسی حل یا سخت ترین اقتصادی پابندیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے۔ عرب ٹی وی کے مطابق امریکا نے واضح کیا تھا کہ اگر شامی رجیم نے ملک میں جاری تنازع کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش جاری رکھی تو دمشق کو سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بشارالاسد سمیت 39 شامی شخصیات اور اداروں پر امریکی پابندیاں
القمر
