واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ امریکا آئے بچوں سے متعلق پروگرام ڈاکا کو ختم کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ پروگرام امریکا میں مقیم تارکین وطن کے ساڑھے 6 لاکھ بچوں کو بے دخلی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو 2 سال سے اس پروگرام کو ختم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ پروگرام 2012ء میں اس وقت کے صدر بارک اوباما نے بنایا تھا، تاکہ اس کے تحت آنے والے نوجوان تارکین وطن امریکا میں رہتے ہوئے اسکول جائیں اور کام کر سکیں۔ یہ پروگرام بعد میں مجوزہ ’’دا ڈریم ایکٹ‘‘ کا حصہ بنا اور نوجوان تارکین وطن کو ڈریمرز کا نام دیا گیا۔ اکثریتی فیصلے میں چیف جسٹس رابرٹس نے ماتحت عدالت کی طرح قرار دیا کہ انتظامیہ نے قانون کے مطابق کارروائی پر عمل نہیں کیا اور اس بات کا جائزہ نہیں لیا کہ پروگرام ختم کرنے سے ان لوگوں پر کیا اثر پڑے گا، جنہوں نے بے دخلی سے تحفظ اور قانونی طور پر کام کرنے کے لیے اس پر انحصار کیا تھا۔ چیف جسٹس رابرٹس نے لکھا کہ ہم یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ ڈاکا کو برقرار رکھنا یا ختم کرنا کیسی پالیسی ہے۔ ہم صرف اس معاملے کو طے کر رہے ہیں کہ ادارے نے اپنی کارروائی کا جواز دینے کے لیے جو کارروائی کی، کیا وہ درست تھی یا نہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ اس فیصلے پر پھٹ پڑے۔ انہوں نے 2 ٹوئٹس میں فیصلے کو ملک کے قدامت پرستوں کے خلاف متعصبانہ قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ خود کو فخریہ طور پر ری پبلکن کہلانے لوگوں کے چہرے پر کالک ملنے کے مترادف ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے مہاجر بچوں کی بے دخلی روک دی
القمر
