واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے کے اعلان کے بعد سے فلسطینی پناہ گزینوں کے ذمے دار ادارے ’’اونروا‘‘ کو بدترین معاشی اور مالی بحران کا سامنا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے 2018ء میں اونروا کے لیے اپنی مالی مدد کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد سے ادارے کی 7 دہائیوں پرپھیلی خدمات میں بڑی مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ اونروا کا قیام 1949ء میں عرب اسرائیل جنگ کے ایک سال بعد کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ اس وقت اندرون اور بیرون فلسطین کم سے کم 70 لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کی کفالت کا ذمے دار ہے۔ اس ادارے کے ذمے فلسطینی پناہ گزینوں کے تمام سماجی، معاشی، تعلیمی، طبی اور دیگر ضروریات کی فراہمی ہے، مگرجب سے امریکی صدر نے اس کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کی ہے، یہ ادارہ بدترین معاشی اور مالی مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ اونروا کی بجٹ میں غیرمعمولی کمی کے نتیجے میں اندرون اور بیرون ملک لاکھوں فلسطینی متاثر ہوئے ہیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے دفاع کے لیے قائم کردہ کمیٹی 302 کے ڈائریکٹرعلی ہویدی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اونروا وقت کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے خلاف سب سے بڑے صہیونی جرم کا زندہ گواہ بن گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک فلسطینی عوام اپنی سرزمین اور گھروں کو واپس نہ آجائیں، اس وقت تک یہ اپنا کردار ادا کرے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے کہا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو لگنے والے زخم 70 سال بعد بھی تازہ ہیں اور ان کی تکلیف آج بھی پوری شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی ہے۔ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کا بہتر اور منصفانہ حل ان کی اپنے کھوئے ہوئے وطن میں واپسی میں مضمر ہے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کا عالمی ادارہ بند کرانے کا امریکی منصوبہ
القمر
