واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریائی سفارت کاری پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ ٹرمپ نے پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔ انہوںنے ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں اپنی کتاب کے اجرا سے قبل اے بی سی نیوز کو انٹرویو کے دوران امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان جون 2018 ء میں سنگاپور میں ہونے والی پہلی ملاقات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی توجہ سربراہ ملاقات کے اختتام پر نیوز کانفرنس میں آنے والے نامہ نگاروں کی توجہ حاصل کرنے پر مرکوز تھی۔ بولٹن نے کہا کہ امریکا کو سربراہ ملاقات سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا۔ کم جونگ ان کو تعریفوں کے پل باندھ کر معاملات طے کرنے پر مائل کرنا انتہا ئی ناتجربہ کاری اور بھونڈی کوشش تھی۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے وقت ہال میں موجود تھے، لیکن انہوں نے ٹرمپ کو چین سے دوسری مدت میں کامیابی کے لیے مدد طلب کرتے نہیں سنا۔ قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے اپنی کتاب میں جو دعوے کیے ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔
ٹرمپ نے شمالی کوریا کیخلاف کوئی کامیابی حاصل نہیں کی‘ بولٹن
القمر
