برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی کے شہر گوئٹن برگ میں 200 مریضوں کی جانب سے قرنطینہ سے فرار کی کوشش کے بعد پولیس کے اضافی دستے تعینات کردیے گئے۔ خبررساں اداروںکے مطابق شہر میں کورونا وائرس کے بڑی تعداد میں نئے کیس سامنے آنے کے بعد حکام نے 700 افراد کو رہایشی علاقے میں قائم قرنطینہ مرکز میں رکھنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ بعد میں 200افراد نے قرنطینہ توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی اور پولیس پر شیشے کی بوتلوں، پٹاخوں اور سلاخوں سے حملے کیے۔ دوسری جانب جرمنی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آنے کے بعددوبارہ اضافہ ہونے لگا اور نئے کیسوں کی شرح یومیہ 1.79 فیصد سے بڑھ کر 2.88 فیصد تک پہنچ گئی۔ ادارہ صحت رابرٹ کوش انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگیا ہے۔ آرکے آئی کے مطابق وائرس کی دوبارہ افزایش میں 2.88 فیصد کا مطلب ہے کہ 100 مریضوں سے مزید 288 افراد میں منتقل ہوگا۔ اعداد وشمار کے لحاظ سے وائرس کو روکنے کے لیے ایک فیصد سے کم شرح ناگزیر ہوتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وائرس کا دوبارہ پھیلاؤ نرسنگ ہومز، اسپتالوں، سیاسی پناہ کے متلاشی اورمہاجرین کے لیے قائم اداروں، گوشت کے پلانٹس، مواصلاتی کمپنیوں، کسانوں اور مذہبی وسماجی تقاریب سے ہوا۔
جرمنی: رہایشی احاطے میں قائم قرنطینہ مرکز سے 200 شہری فرار
القمر
