نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوامِ متحدہ کے نمایندہ خصوصی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے کہا ہے کہ جنگ نے یمنی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے یمنی فریقین سے پر تشدد کاروائیوں اور جنگ کے خاتمے کی اپیل کی۔ اقوامِ متحدہ کے نمایندے کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر طرفین سے جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے اور مذاکرات کی روشنی میں اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔ خانہ جنگی نے یمنی عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اورکورونا وائرس نے ملک کے حالات کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ حوثی باغی ایک طرف تو امن اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے ملک بھرمیں عسکریت پسندی کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کرنا شروع کردیا ہے۔ مارٹن گریفتھس نے متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ لڑائی روک کر مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور عوام کی امنگوں اور مطالبات کی روشنی میں امن وامان کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔ عالمی ادارے کے مندوب کا کہنا تھا کہ باغیوں کی عسکری کارروائیاں یمن میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے جانے والی کوششوں کو بھی متاثر کررہی ہیں۔ اپنے بیان میں مارٹن گریفتھس نے یمنی حکومت اور جنوبی یمن کے علاقے عدن میں عبوری کونسل پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب کی میزبانی میں طے پانے والے مصالحتی معاہدے پرعمل کریں۔ دوسری جانب یمن کے وزیر ِ صنعت و تجارت میتمی عدن میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی جانب سے حکومت مخالف کاروائیوں کے خلاف رد عمل کے طور پر مستعفی ہو گئے۔
جنگ نے یمنی عوام کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا‘ اقوام متحدہ
القمر
