ویب ڈیسک —
سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس حج شیڈول کے مطابق ہو گا لیکن کرونا وائرس کے باعث سلطنت میں مقیم افراد کو ہی حج کی اجازت ہو گی۔
سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے پیر کی شب جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں برس حج کو محدود رکھا گیا ہے اور سلطنت میں مقیم مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے عازمین ہی حج کریں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور لوگوں کی صحت کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت کئی اسلامی ملکوں نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
سعودی عرب کی جانب سے ایسے اشارے بھی مل رہے تھے کہ رواں برس حج کو محدود رکھا جائے گا۔ حکام نے مارچ میں ہی مسلم ملکوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے حج انتظامات نہ کریں اور اس سلسلے میں ہوٹلوں کی بکنگ بھی نہ کی جائے۔
یاد رہے کہ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں عازمین حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کے شہر مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔ گزشتہ برس بھی لگ بھگ 25 لاکھ افراد نے حج کا فریضہ ادا کیا تھا۔
سعودی وزارتِ حج کا کہنا ہے کہ بڑے اجتماع میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے اور وبائی مرض کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے حج کو محدود رکھا گیا ہے۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ رواں برس جولائی کے آخری ہفتے سے شروع ہونے والے حج میں کتنے اور کن ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔
کرونا وائرس سے سعودی عرب میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔ کئی حلقے مسلم رہنماؤں پر زور دے رہے تھے کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیشِ نظر رواں برس حج کو منسوخ کر دیں۔
تاہم سعودی وزارتِ حج نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے کہ حجاج کرام محفوظ طریقے سے حج اور عمرہ ادا کریں۔ اس بار بھی حج کے دوران سماجی دوری سمیت دیگر تمام حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ آپ کی صحت اور حفاظت ہی ہماری ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے حج کے انعقاد سے متعلق آگاہ نہ کیے جانے پر انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور اور سینیگال نے پہلے ہی اپنے شہریوں کو سعودی عرب نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
ترکی، مصر، لبنان اور کئی دیگر ملک سعودی حکام سے مطالبہ کر رہے تھے کہ حج کے اجتماع سے متعلق فیصلہ جلد کر لیا جائے۔
