سجاول (نمائندہ جسارت )سجاول میں بدامنی اور چوروں کا راج قائم ہے لیکن سجاول پولیس صرف گٹکا فروشوں سے اپنی کارکردگی آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی کو رپورٹ کرکے خوش فہمی کا شکار ہے۔ شہر سے دودن قبل ایک تاجر رہنما سیٹھ نیاز میمن کی کرولا جی ایل آئی کار سجاول بٹھورو بائی پاس علی میر ملاح پیٹرول پمپ سے چوری ہو گئی جس کے باعث تاجر رہنمائوں اور شہری اتحاد نے نہ صرف سجاول پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا بلکہ خاتون ایس ایس پی سجاول سہائی عزیز تالپر کے خلاف شہری اتحاد کی جانب سے پریس کانفرنس کی اور ایس ایس پی کی سجاول سے برطرفی کا مطالبہ کیا اور مطالبہ پورا نہ ہونے پر ان کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان بھی کیا۔ نتیجے میں شہریوں کی جدجہد رنگ لے آئی اور شہریوں کے دبائو میں آکر پولیس نے دس دن کے اندر گاڑی برآمد کرلی۔ دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک تاجر رہنما اور شہری اتحاد کی جدوجہد کے نتیجے میں سجاول پولیس نے گاڑی تو برآمد کرلی مگر دس مہینے پہلے سجاول کے سینئر صحافی حفیظ الرحمن میمن رحمانی کی نمازظہر کے دوران نئی ہنڈا سی ڈی موٹر سائیکل چوری ہو گئی جس کے لیے صحافیوں کے وفد نے بار بار ایس پی سجاول کو توجہ دلاتے رہے ہیں تو دوسری جانب 4 مہینے پہلے شہر کی معزز شخصیت ماما اسماعیل میمن کی گاڑی ون ٹو فائیو تھانے کے برابر ڈی سی ہائوس کے سامنے سے مسجد سے نمازجمعہ کے دوران چوری ہوگئی جو ابھی تک پولیس بازیاب کرانے میں ناکام رہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف گٹکا فروشوں کی جھوٹی رپورٹیں آئے دن آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی حیدرآباد کوواٹس ایپ کے ذریعے رپورٹ کرکے سجاول پولیس خوش فہمی کا شکار ہے۔ ایس ایس پی سجاول کے پاس عام لوگوں اور تاجر رہنمائوں کے لیے الگ الگ معیار ہے۔ اس مسئلے پر سجاول پولیس کے خلاف انکوائری کی جائے توسجاول سے چوری شدہ گاڑیاں بھی برآمد کی جا سکتی ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی چوری اور ڈاکا پولیس کی معلومات سے باہر نہیں ہوتے۔
سجاول پولیس تا جر کی گمشدہ کار بازیاب کرانے میں کامیاب
القمر
