بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے امریکی جی پی ایس سسٹم کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے جیولوکیشن نیٹ ورک بیڈو کا آخری سیٹلائٹ بھی لانچ کر دیا۔ اس اقدام سے یورپ اور امریکا پر انحصار کے خاتمے کے ساتھ چین اس منافع بخش منڈی میں نیا کھلاڑی بن کر ابھرے گا۔ چین نے بیڈو نامی جیولوکیشن سسٹم مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ چین اب امریکی جی پی ایس نیٹ ورک کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔ چینی سرکاری ٹیلی وژن سی سی ٹی وی پر سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تقریب براہِ راست نشر کی گئی۔ لانگ مارچ تھری نامی راکٹ کو شمال مغربی صوبے سیچوان سے لانچ کیا گیا۔ تقریباً نصف گھنٹے بعد یہ سیٹلائٹ اپنے مدار میں پہنچ گیا، جہاں اس کے شمسی پینل کھلے، تاکہ اسے توانائی مل سکے۔ چائنا اسپیس ایجنسی کے مطابق اسے گزشتہ منگل کو لانچ کیا جانا تھا، لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے چند روز بعد لانچ کیا گیا۔ چین نے مجموعی طور پر بیڈو سسٹم سے منسلک 55 سیٹلائٹ لانچ کرکے اس نظام کو مکمل بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اربوں ڈالر کی جیولوکیشن سروس میں ایک بڑا کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔ بیڈو نظام امریکا کے گلوبل پوزیشنگ سسٹم (جی پی ایس) روس کے گلونس اور یورپ کے گیلیلیو کا مقابلہ کرے گا۔ اس سسٹم کے چیف ڈیزائنر یانگ چانگ فینگ کا کہنا تھا کہ اب ان کا نظام پوری دنیا میں سروسز فراہم کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین دنیا میں اسپیس کی بڑی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ چین نے 1990ء کی دہائی میں گلوبل نیوی گیشن سسٹم بنانے کا آغاز کیا تھا۔
چین نے خلاء میں اپنا سٹیلائٹ نظام مکمل کرلیا
القمر
