واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے مشتعل افراد نے سابق سفید فام صدر اینڈریو جیکسن کے مجسمے کو رسیوں سے باندھ کر گرانے کی کوشش کی۔ خبررساں اداروں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ لیفائٹ اسکوائر پارک میں نصب اینڈریو جیکسن کا مجسمہ مسمار کرنے کی کوشش میں کئی مظاہرین کو حراست میں لیاگیا ہے۔ دوسری جانب نیویارک کی انتظامیہ نے ملک بھر میں نسلی امتیاز اور سامراجی علامات کے خلاف چلنے والی تحریک کے نتیجے میں سابق امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے کانسی سے بنے مجسمے کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔ نیویارک میں امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کی عمارت کے باہر نصب مجسمے میں روزویلٹ گھوڑے پر سوار ہیں اور گھوڑے کے پہلو میں ایک جانب قدیم امریکی باشندے اور دوسری جانب افریقی باشندے کا مجسمہ ہے۔ واضح رہے کہ سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد امریکا میں بعض مجسموں اور یادگاروں کے حوالے سے بحث چھڑگئی ہے۔ امریکا میں غلامی کی حمایت اور کرسٹوفر کولمبس کے ہاتھوں امریکی نو آبادی سے متعلق علامات اور یادگاروں پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ بلیک لائیوز میٹر کی تحریک کے نتیجے میں مجسموں کے خلاف مہم دنیا بھر میں پھیل چکی ہے اور کئی ممالک میں یادگاروں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ نیویارک کے میئر بل ڈی بلیسیو کا کہنا تھا کہ روز ویلٹ کا مجسمہ سیاہ فام باشندوں کو محکوم اور نسلی لحاظ سے کمتر ظاہر کرنے کی علامت سمجھا جاتاہے۔
امریکا میں سابق سفید فام صدر کا مجسمہ گرانے کی کوشش
القمر
