ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب نے رواں برس عازمین حج کے لیے کڑی شرائط کا اعلان کردیا۔ وزیر صحت توفیق ربیعہ نے وزیر حج و عمرہ محمد صالح کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ رواں سال ان افراد کو حج کی اجازت ہو گی، جن کی عمر 65 برس سے کم ہے اور وہ کسی دائمی مرض میں مبتلا نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم صرف ایک ہزار افراد کو فریضہ ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حج کے لیے آنے سے قبل تمام عازمین کو اپنے گھروں میں 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔ اس دوران کارکنان اور خدام کا بھی کورونا ٹیسٹ ہو گا اور مناسک کے دوران ان کی نگرانی کی جاتی رہے گی۔ وزیر صحت نے بتایا کہ حج کے دوران کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک اسپتال تیار کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ فیصلہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور لوگوں کی صحت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے فیصلے سے قبل ہی انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت کئی مسلم ممالک اپنے شہریوں کو حج کے لیے نہ بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ سعودی حکام نے مارچ میں مسلم ممالک کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے پیش نظر حج انتظامات نہ کریں اور اس سلسلے میں ہوٹلوں کی بکنگ بھی نہ کی جائے۔ سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔ اس تناظر میں حکومت پر حج منسوخ کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ تاہم وزارت حج نے بیان میں کہا کہ حکومت کی ہمیشہ ترجیح رہی ہے کہ حجاج کرام محفوظ طریقے سے حج اور عمرہ ادا کریں۔ اس بار بھی حج کے دوران سماجی دوری سمیت دیگر تمام حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔پریس کانفرنس میں سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر صالح بنتن نے کہا کہ رواں سال حج کے لیے ہم نے خصوصی منصوبہ بندی کی ہے۔
عازمین حج کے لیے کڑی شرائط‘ تعداد صرف ایک ہزار مقرر
القمر
