English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ضابطہ اخلاق کا اطلاق تمام اسٹیک ہولڈرز پر ہوگا، سلمان نصیر

القمر

لاہور (جسارت نیوز)پاکستان کرکٹ بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ضابطہ اخلاق کی منظوری دے دی، اس کوڈ میں مفادات کا تصادم، مفادات کا اعلان اور رازداری جیسے امور شامل ہیں۔اب تمام بی او جی کے اراکین، کمیٹی اراکین اور پی سی بی کا عملہ اس کوڈ کی تعمیل کا پابند ہوگا۔ یہ کوڈ کرکٹ ایسوسی ایشن کی سطح پر بھی لاگو ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کی تشکیل کا اصل مقصد پاکستان میں کرکٹ کی سرگرمیوں کی گورننس اور اہم اسٹیک ہولڈرز کی ریگولیشن کے لیے اخلاقی اصول واضح کرناہے، جس سے پی سی بی کے اسٹریٹجی پلان کے مطابق کرپشن اور غیراخلاقی رویے سے نبردآزما ہوکر پی سی بی کے اقتدار کو تقویت ملے گی۔ بی او جی نے پاکستان سپر لیگ 2020 کے30 میچوں کے کامیاب انعقاد پر پی سی بی کو مبارکباد پیش کی ۔ بی او جی کو بتایا گیا ہے کہ پی سی بی پی ایس ایل 2020 کے بقیہ میچز کے انعقاد کے لیے منصوبہ بندی کررہا ہے۔ بی او جی کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لیگ کے آئندہ ایڈیشن میں پشاور کو بطور 5واں وینیو شامل کیا جائے گا۔ یہ ایڈیشن فروری –مارچ 2021 میں منعقد ہوگا۔بی او جی نے پی ایس ایل کو کمرشل ڈیپارٹمنٹ سے علیحدہ کرکے ایک الگ ڈیپارٹمنٹ بنانے کی منظوری دے دی۔ پی ایس ایل کے پراجیکٹ ایگزیکٹو شعیب نوید اس شعبے کی سربراہی جاری رکھیں گے۔ وہ اس دوران تمام اسٹیک ہولڈرز سے تعلقات مزید بہتر کرنے اور ایک معیاری ایونٹ کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ اس حوالے سے ایک نگران گروپ تشکیل دیا گیا ہے، جس میں پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو، چیف آپریٹنگ آفیسر، چیف فنانشل آفیسر اور ڈائریکٹر کمرشل شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے