English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدالت عظمیٰ: دوائوں کی قیمت کے تعین کیلیے وفاقی حکومت کو 4 ہفتوں کی مہلت

القمر

 

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت کو ادویات کی قیمتوں پر 4 ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہو ئے معاملے کی سماعت ایک ماہ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔عدالت عظمیٰ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ دنیا کے ممالک میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹیز بڑی مضبوط ہیں‘ ہمارا ڈریپ کا ادارہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نیچے لگا ہوا ہے‘ ادویات کی قیمتوں کا تعین ایک دن میں ڈریپ کو کرنا چاہیے‘ ٹاسک فورس کا جواز قانون میں کسی جگہ نہیں‘ ڈی پی سی نے قیمتوں کا تعین کیا‘ حکومت نے ڈی پی سی کے
فیصلے پر ٹاسک فورس بنادی‘ اس طرح تو ٹاسک فورس پر ٹاسک فورس بنتی جائیں گی‘ ڈریپ چاہتا ہے تمام کمپنیاں اس کے دروازے پر آکر بیٹھی رہیں۔ معاملے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت فارما سیوٹیل کمپنی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ادویات کی قیمت کے تعین میں عدالت عظمیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی‘ حکومت نے جو ایس آر او جاری کیا وہ عدالت کے حکم کے مطابق نہیں تھا‘ عدالت نے ادویات کی قیمتیں 2013 کی سطح پرفریز کرنے کاحکم دیا تھا۔ ڈریپ ڈائریکٹر نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ڈریپ میں ڈائریکٹر لیول پر کوئی ڈیپوٹیشن پر کام نہیں کر رہا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات آ چکی ہے‘ حکومت نے سفارشات پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا‘ ڈی پی سی کو قیمتوں کے تعین کا اختیارنہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے