English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بحیرہ جنوبی چین میں 2 بیڑے تعینات

القمر

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد پینٹاگون نے رواں ماہ دوسری بار بحیرۂ جنوبی چین میں اپنے بحری بیڑے تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی بحریہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق 2 بحری بیڑوں یو ایس ایس نمٹز اور یو ایس ایس رونالڈ ریگن نے رواں ماہ 4 سے 6 جولائی کے دوران بحیرہ جنوبی چین میں فوجی مشقیں کی تھیں اور اب انہیں جمعہ کو دوبارہ اس خطے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کی طرف سے بحری بیڑوں کی بحیرۂ جنوبی چین میں تعیناتی کی وجوہات سیاسی یا دنیا میں رونما ہونے والے واقعات نہیں ہیں، لیکن امریکی بحریہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ چاہے وہ کورونا وائرس ہو، تجارت ہو یا پھر ہانگ کانگ سے متعلق معاملات، ان تمام مسائل پر دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ امریکی بحری بیڑے نمٹز کے ریئر ایڈمرل جم کرک نے کہا ہے کہ یو ایس ایس نمٹز اور یو ایس ایس ریگن بحیرۂ جنوبی چین میں تعینات کیے گئے ہیں، جہاں بین الاقوامی قوانین خطے میں موجود امریکا کے اتحادیوں کو مدد فراہم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ بحیرۂ جنوبی چین کا یہ خطہ متنازع ہے۔ چین اس کے 90 فیصد حصے پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن خطے کے دیگر ممالک برونائی، ملائیشیا، فلپائن، تائیوان اور ویتنام اس دعوے کو نہیں مانتے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے حوالے سے کسی چیز کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔ یہ بات وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان کیلی میکنینی نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ جب کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کا امریکا میں داخلہ ممنوع قرار دینے پر غور کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے