واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ڈاکا پروگرام کے تحت غیر قانونی تارکِ وطن بچوں سے درخواستیں وصول کرے، تاکہ ان کی امریکا سے بے دخلی روکی جاسکے۔ جمعہ کے روز ڈسٹرکٹ کورٹ میری لینڈ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو 3 سال سے معطل ڈاکا پروگرام بحال کرنا چاہیے۔ یہ پروگرام امریکا میں مقیم تارکین وطن کے ساڑھے 6 لاکھ بچوں کو بے دخلی سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ امریکا آئے بچوں سے متعلق پروگرام ڈاکا کو ختم نہیں کر سکتی۔ امریکا کی سٹیزن شپ اور امیگریشن سروسز کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی حکم نامے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ پروگرام 2012ء میں اس وقت کے صدر بارک اوباما نے بنایا تھا، تاکہ اس کے تحت آنے والے نوجوان تارکین وطن امریکا میں رہتے ہوئے اسکول جائیں اور کام کر سکیں۔ یہ پروگرام بعد میں مجوزہ ’’دا ڈریم ایکٹ‘‘ کا حصہ بنا اور نوجوان امیگرنٹس کو ’’ڈریمرز‘‘ کا نام دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ امیگریشن سے متعلق ایک ایگزیکٹو حکم نامہ جاری کریں گے، جس میں ڈاکا پروگرام کے تحت امریکی شہریت دینے کا طریقہ کار بھی ہو گا۔ صدر کے انٹرویو کے بعد ایک وضاحتی بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ صدر نے استثنا دینے کی بات نہیں کی، بلکہ وہ امیگریشن سے متعلق میرٹ پر مبنی ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ صدر کانگریس کو اعتماد میں لے کر ایسی قانون سازی کے خواہاں ہیں، جس سے سرحدیں بھی محفوظ رہیں اور امیگریشن کے لیے شفاف طریقہ وضع کیا جا سکے۔ امیگریشن سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی پر انہیں خود اپنی جماعت میں تنقید کا سامنا ہے۔
