غزہ/ صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ اور اسلامی جہاز نے فلسطین کو گوگل اور ایپل کے بین الاقوامی نقشوں سے ہٹانے پر سخت تنقید کی ہے۔ حماس نے اس اقدام کو قابض اسرائیلی ریاست کے حق میں اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کا اقدام صہیونی قبضے کے حق میں ہے اوراس سے تاریخی حقائق کی نفی ہوگی۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ فلسطین کو بین الاقوامی نقشوں سے ہٹانے سے قابض اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر قائم رہنے کی ترغیب ملے گی۔ ترجمان نے زور دیا کہ یہ طرز عمل بین الاقوامی وانسانی قوانین اور فیصلوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی جہاد نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام حق اور انصاف پر حملہ اور صہیونی قبضے اور نسل پرستی کی جانب جھکاؤ کا عکاس ہے۔ اسلامی جہاد کاکہنا ہے کہ یہ مایوس کن کوشش ہے، جو حقیقت بدل نہیں سکتی۔ ادھر یمن کے دارالحکومت صنعا میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل ایک کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں شرکا نے متفقہ طور پر قضیہ فلسطین کے خلاف سازشیں اور اسرائیل کے ساتھ دوستی کی مہمات مسترد کردیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق صنعا میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں فلسطینیوں کی نمایندہ تنظیموں کی قیادت اور مقامی جماعتوں کے رہنمائوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے فلسطینی دھڑوں میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
