English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پی ٹی وی لائسنس فیس میں اضافہ مئوخر ۔ کار کردگی نہ دکھائی تو حشر ن لیگ اور پی پی جیسا ہوگا ، وزیر اعظم

القمر

 

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی کابینہ نے پاکستان ٹیلی ویڑن (پی ٹی وی) کی ماہانہ لائسنس فیس میں اضافے کا معاملہ مؤخر کر دیا ہے۔اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور اقتصادی صورت حال سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بعض وزرا نے پی ٹی وی فیس میں اضافے پر اعتراض کردیا، ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سے قبل عوام کوبتایاجائے کہ سرکاری ٹی وی پر 14 ارب کا خسارہ ہے۔وزراکے اعتراض کے بعد کابینہ نے پی ٹی وی فیس میں اضافہ عوام کو اعتماد میں لیے جانے تک روک دیا ۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت نے پی ٹی وی کی لائسنس فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کر دی تھی۔کابینہ نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2020ء میں مجوزہ ترمیم کی منظوری بھی دے دی۔اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے تفتیشی اختیارات کے لیے ضابطہ فوجداری1898ء میں بھی ترمیم کی منظوری دی جب کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف ایٹی ایف) سے متعلق کمپنیز ایکٹ اور لائبلیٹیز پارٹنرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی بھی منظوری دی
گئی۔وفاقی کابینہ نے انسداد منشیات ایکٹ1997ء میں ترمیم اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ری آرگنائزیشن ایکٹ 2020ء کی منظوری بھی دے دی ہے۔اس موقع پر فیصل واوڈا نے حکومتی میڈیا ٹیم پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ میڈیا ٹیم کی کارکردگی مایوس کن ہے، حکومت نے ملک کو معاشی بحران سے نکالا ، تعمیراتی صنعت کے لیے پیکج کا اعلان کیا ،کیا اسے سرکاری میڈیا میں بہتر انداز سے پیش کیاگیا، اس مایوس کن کارکردگی کا بھی احتساب ہونا چاہیے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے معاملے پر دہائیوں بعد کام کا آغاز ہوا اس معاملے کو بھی بھرپور انداز میں میڈیا میں اچھالنا چاہیے تھا مگر ایک2 دن بعد یہ معاملہ دب گیا ۔ معاونین اور مشیروں کے اثاثوں کو پبلک کرنے کے معاملے پربھی بات ہوئی اور ذرائع کے مطابق بعض وزرا نے کہا کہ دہری شہریت کے حوالے سے معاونین خصوصی کو آگاہ کرنا چاہیے تھا ،یہ ایک غیر ضروری ایشو بن گیا ہے مشیروں اور معاونین خصوصی کی کارکردگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ وہ کابینہ کے ہر رکن کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں اس موقع پر حکومتی میڈیا ٹیم سے سخت سوالات بھی کیے گئے اور اس بات پر زور دیاگیا کہ نامساعد حالات کے باوجود حکومت عوام کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے اور ان کی پرموشن بھی موثر انداز میں ہونی چاہیے جو کہ ہمیں نظر نہیں آتا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو کارکردگی دکھائے گا کابینہ میں رہے گا اس لیے انہوں نے معاونین خصوصی اور مشیروں کی شہریت اور اثاثوں سے متعلق معاملات کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ہر کوئی اپنی پوزیشن واضح کرسکتا ہے مگر وہ کسی طور پر کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال برداشت نہیں کریںگے،سب کو کارکردگی دکھانا ہوگی کیونکہ ہمیں عوام کے اعتماد پرپورا اترنا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو آپ لوگ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا حشر یاد رکھیں کہ عوام نے ان کے ساتھ کیا کیا ۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کم ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کامیاب رہی ہے لیکن ابھی مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عید الاضحی پر کورونا کے حوالے سے ضابطہ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدار ت کررہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے