English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لبنان میں پر تشدد مظاہرے ، فرانس کو دوبارہ قبضے کی دعوت

بیروت: حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے ٹائر جلا کر سڑک بند کررکھی ہے‘ مظاہرین سیکورٹی فورسز کے سامنے نعرے بازی کررہے ہیں‘ مختلف مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں‘ امدادی کارکن بندر گاہ حادثے کے مقام پر ملبے میں دبے افراد کی تلاش کے لیے کارروائی کررہے ہیں

 

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) بیروت دھماکوں کے بعد لبنان میں ملکی قیادت کو ایک بار پھر شدید عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعرات کی شب بیروت میں کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے، جو جمعہ کو بھی جاری رہے۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین پر آنسوگیس برسائی، جب کہ مشتعل عوام نے ٹائر اور دیگر اشیا جلا کر سڑکیں بند کردیں۔ مظاہرین نے دیگر مقامات پر توڑ پھوڑ بھی کی اور آگ لگائی۔ مظاہرین منگل کے روز بیروت بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے پر شدید غم و غصے میں ہیں، جس میں 140 افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ عوام نے اسے حکومت کی مسلسل نااہلی کی نئی مثال قرار دیا ہے اور اسی تناظر میں فرانس سے اپیل کی ہے کہ وہ ماضی میں پیرس کے زیرقبضہ رہنے والے لبنان پر دوبارہ قبضہ کرلے۔ 58 ہزار افراد نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے ہیں، جس میں فرانس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آیندہ 10 برسوں کے لیے لبنان کا انتظام سنبھال لے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ لبنانی حکام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کو سیکورٹی فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایک ناکام نظام، مالی بدعنوانیوں، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے باعث لبنان آخری سانسیں لے رہا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ لبنان کو فرانس کے قبضے میں دے دیا جانا چاہیے، تاکہ ایک شفاف اور پائیدار نظام حکومت کو یقینی بنایا جا سکے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ پٹیشن سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کی جارہی ہے، کیوں کہ لبنانی عوام بہت زیادہ ناامید ہو چکے ہیں۔ وہاں پہلے ہی مسائل کی کمی نہیں تھی کہ عوام سے مزید بہت کچھ چھن گیا۔ کئی جانیں چلی گئیں، گھر واملاک تباہ ہوگئیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے۔ واضح رہے کہ لبنان پہلی عالمی جنگ کے بعد 1920ء سے 1945ء تک فرانس کے زیر انتظام رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس کے صدر ماکروں وہ پہلے غیر ملکی رہنما ہیں، جنہوں نے بیروت دھماکے کے بعد لبنان کا دورہ کیا ہے۔ ماکروں نے اس دورے کے دوران لبنانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ وہ لبنانی قیادت سے کہیں گے کہ وہ ایک نئے سیاسی منظر نامے کی طرف بڑھیں۔ ماکروں کی جانب سے بیروت کی سڑکوں پر دورے کے دوران لبنان کی کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی۔ ایسے میں غصے اور غم سے متاثرہ لبنانی عوام نے ماکروں سے مطالبہ کیا کہ فرانس کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد کو ملکی قیادت کے بجائے غیر سرکاری تنظیموں کو دیا جائے۔ ساتھ ہی فرانس کے فرانزک ماہرین سمیت 22 رکنی ٹیم بھی بیروت دھماکوں کی تحقیقاتی شامل ہوگئی ہے۔ تحقیقات میں مدد کے لیے آئے ایک فرانسیسی ماہر کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بظاہر یہ دھماکا ایک حادثہ لگتا ہے۔ فرانسیسی فرانزک ماہر ڈومینک ایبنانتی نے جمعہ کے روز خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بظاہر یہ حادثہ لگتا ہے، لیکن فوری طور پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، کیوں کہ اب بھی ملبے تلے لاشیں موجود ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے