ویب ڈیسک —
ہانگ کانگ کی پولیس نے میڈیا ٹائیکون جمی لائے سمیت سات افراد کو نئے سیکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس نے پیر کو جمی لائے کے میڈیا گروپ ‘نیکسٹ ڈیجیٹل’ کے ہیڈکوارٹر کا محاصرہ کیا۔ اُس موقع پر پولیس اور سیکیورٹی کے عملے کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
پولیس نے نیکسٹ ڈیجیٹل کی عمارت میں داخل ہو کر نیوز روم میں تلاشی لی اور بعدازاں جمی لائے کو اُن کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا۔
ہانگ کانگ میں چین کی جانب سے 30 جون کو نافذ کردہ سیکیورٹی قانون کے تحت اب تک ہونے والی یہ سب سے بڑی گرفتاری ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ 39 سے 72 برس کے سات افراد کو سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا ہے۔ تاہم پولیس نے گرفتار افراد کے نام ظاہر نہیں کیے۔
متنازع سیکیورٹی قانون کے تحت جمی لائے کی گرفتاری ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے ہی امریکہ نے ہانگ کانگ اور چین کے حکام پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
جمی لائے کے میڈیا گروپ ‘نیکسٹ ڈیجیٹل’ کے ایگزیکٹو مارک سمن نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پولیس نے جمی لائے اور ان کے بیٹے کے گھر کی تلاشی لی جس کے بعد نیکسٹ ڈیجیٹل کے کئی ارکان کو بھی حراست میں لیا ہے۔
اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ متنازع سیکیورٹی قانون کے نفاذ کے بعد جمی لائے یا اُن کے اخبار نے کب کسی ملک کے ساتھ ہانگ کانگ کے اندرونی معاملات پر گٹھ جوڑ کیا ہے۔
یاد رہے کہ جمی لائے نے گزشتہ برس امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس اور وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی۔ اُس موقع پر انہوں نے ہانگ کانگ کے لیے چین کی متنازع قانون سازی پر تبادلۂ خیال بھی کیا تھا۔
ہانگ کانگ میں نافذ نئے سیکیورٹی قانون کے مطابق علیحدگی پسندی، تخریب کاری، دہشت گردی یا شہر کے اندرونی معاملات میں کسی دوسرے ملک کے ساتھ گٹھ جوڑ کے الزامات پر ملزم کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر اس کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔
چین کے ٹی وی چینل سی سی ٹی وی کے مطابق گزشتہ ماہ سماجی کارکن نیتھن لا اور پانچ دیگر افراد کو سیکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کیا جانا تھا۔ تاہم تمام چھ افراد بیرونِ ملک فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
