سید پرویز قیصر
انگلینڈ کے خلاف ساوتھمپٹن میں دوسرے ٹیسٹمین فواد عالم پاکستانی ٹیم میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔انہیں3911 روز بعد پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں کھیلنے کا موقع ملا ۔ اس وقفے میں پاکستانی ٹیم نے 88 ٹیسٹ میچ کھیلے ۔ فواد عالم کی واپسی اچھی نہیں رہی اور وہ پاکستان کی پہلی اننگ میں اپنا کھاتہ کھولے بغیر چوتھی گیند پرکریس ووکس کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔وہ 7ویںاننگ میں پہلی مرتبہ صفر کا شکار ہوئے۔
بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے فواد عالم نے اپنا پہلا ٹیسٹ سری لنکا کے خلاف کولمبو میں2009 میں کھیلا تھا۔اسی سال نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ڈونیڈن میں وہ اپنا تیسرا ٹیسٹ کھیلے تھے جس کے بعد وہ ٹیسٹ ٹیم سے باہر ہوگئے تھے۔ اس دوران انہوں نے ایک روزہ بین الاقوامی میچ اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی ضرور کی تھی۔
فواد عالم کی 3911 دن یعنی10سال اور259 دن بعد واپسی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے دوسرا سب سے زیادہ اور کل ملاکر7 واں سب سے زیادہ وقت ہے۔
انگلینڈ کے گراتھ بیٹی نے ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے لئے سب سے زیادہ وقت لیا تھا۔ انہوں نے 11 سال اور 137 دن کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائی تھی۔ اس دوران انگلینڈ نے 142 ٹیسٹ کھیلے تھے۔ انہوں نے ٹیم میں واپسی سے پہلے 7ٹیسٹ کھیلے تھے جبکہ ٹیم میں واپسی کے بعد وہ2ٹیسٹ میچ اور کھیلے تھے۔
مارٹن بکنیل نے9 اگست1993 کو اپنا دوسرا ٹیسٹ کھیلا تھا جس کے بعد انہیں تیسرے ٹیسٹ کے لئے 10 سال اور12 دن کا انتطار کر نا پڑا تھا۔ اس دوران انگلینڈ نے114 ٹیسٹ کھیلے تھے۔ مارٹن بکنیل نے واپسی کے بعد 2ٹیسٹ میچوں میں شرکت کی تھی اورانہوں کل4ٹیسٹ میچوں میں شرکت کی تھی۔
ویسٹ انڈیز کے فلائیڈ رائفر نے چوتھے اور5ویں ٹیسٹ کے درمیان 109 ٹیسٹ مس کئے۔ یہ ٹیسٹ ویسٹ انڈیز نے10 سال اور172 دن کے عرصے میں کھیلے۔ انہوں نے4ٹیسٹ کھیلنے کے بعد 2ٹیسٹ میچوں کے لئے ٹیم میں واپسی کی تھی۔
پاکستان کے یونس احمد نے نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں اکتوبر1969 میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا۔ جس کے بعد وہ لاہور میں اگلا ٹیسٹ بھی کھیلے تھے۔ جنوبی افریقا کو دورہ کرنے کی وجہ سے ان پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ پاکستان نے جب1987 عمران خان کی قیادت میں بھارت کا دورہ کیا تھا تو انہیں جے پور میں ہوئے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم میں جگہ ملی تھی۔ اس دوران پاکستانی ٹیم نے 104 ٹیسٹ کھیلے تھے۔ ان کو ٹیم میں واپسی کے لئے 17 سال اور111 دن کا انتظار کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے سب سے زیادہ رن اپنے آخری ٹیسٹ میں بنائے تھے۔ کولکاتہ میں ہوئے اس ٹیسٹ میں وہ 74 رن بنانے میں کامیاب رہے تھے۔اس ٹیسٹ کے آخری دن انکی عمر 39 سال اور139 دن تھی۔اس دورے میں انہوں نے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی شرکت کی تھی۔
فواد عالم کی 3911 روز بعد پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی
القمر
