وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت نے جب ایک متنازع علاقے پر قبضے کی کوشش کی تو چین سامنے آیا۔
چین کے دورے کے پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس میں کمی کے بعد میرا پہلا دورہ چین ہے اور اس دورے میں پاک چین اسٹریٹجک مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کروں گا جبکہ چینی ہم منصب وانگ ژی کے ساتھ بھی ملاقات ہوگی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین دنیا کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کے خواہشمند ہیں، بھارت نے جب ایک متنازع علاقے پر قبضے کی کوشش کی تو چین سامنے آیا، کشمیر کی صورتحال دونوں ممالک کے لیے اہمیت کی حامل ہے، کشمیری پاکستان پر نظریں لگائے بیٹھیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ جو سلوک روارکھا ہے وہ سب کے علم میں ہے، دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے جبکہ بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں اور ہندوستانی حکومت پر اپنے ہی ملک میں تنقید ہورہی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کی جلد تکمیل پر چینی قیادت سے بات ہوگی، سی پیک کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، سعودی عرب کے حوالے سے کہا کہ مستقبل قریب میں سعودی قیادت کے ساتھ مزید نشستیں ہوں گی اور ہم دوست ممالک کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔

