English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قومی فاسٹ بولر محمد عباس انگلینڈ میں بہترین بولر قرار

القمر

ساؤتھمپٹن (جسارت نیوز) سال 2018ء کے آغاز سے لے کر اب تک انگلینڈ میں پچاس اوورز سے زائد بولنگ کرنے والوں میں تیس سالہ فاسٹ بولر محمد عباس کی اوسط( 15.93) اور اکانومی ریٹ( 2.34) سب سے بہتر ہے۔اب تک اس سیریز کے دومیچوں میں 45 اوورز کرنے والے فاسٹ بولر محمد عباس نے اپنی نپی تلی بولنگ کی بدولت حریف ٹیم کے بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا ہے۔ اس حوالے سے فاسٹ بولر محمد عباس کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ کنڈیشنز کو پیش نظر رکھ کر ہی بولنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ گیند تھامتے ہیں تو وہ حریف بلے باز کا ذہن پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ پچ پر کتنا آگے یا پیچھے جا کر کھیل سکتا ہے۔فاسٹ بولر نے کہا کہ حالانکہ متحدہ عرب امارات میں ان کی کارکردگی متاثرکن رہی ہے مگر وہ ہمیشہ انگلش کنڈیشنز میں بولنگ کرنے کا لطف اٹھاتے ہیں کیونکہ یہاں موسم اور کنڈیشنز کے ساتھ ساتھ ڈیوک کی گیند کا استعمال مجموعی طور پر سیم بولر کے لیے موزوں رہتا ہے۔ محمد عباس کا مزید کہنا تھا کہ وہ شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ بولنگ کرنے کا خوب لطف اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیں ہاتھ کے نوجوان فاسٹ بولر میں سیکھنے کا جذبہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ میچ سے قبل ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے ہیں اور باہمی مشاورت سے اپنے لئے موزوں بولنگ اینڈز کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نئی گیند میں اپنے ساتھی بولر شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ مل کر کنڈیشنز کا جائزہ لیتے اور پھر میچ کے حوالے سے حکمت عملی بناتے ہیں، دونوں کوشش کرتے ہیں کہ نئے گیند سے زیادہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کرسکیں تاکہ حریف ٹیم کو دباؤکا شکار کرسکیں۔محمد عباس نے کہا کہ بین اسٹوکس ایک بہترین آلراؤنڈر ہیں اور انہوں نے اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت انگلینڈ کو کئی مرتبہ میچز جتوائے ہیں لیکن ہم نے ان کے خلاف بھرپور تیاری کررکھی تھی۔ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نے کہا کہ وہ انگلش آلراؤنڈر کو اسی مقام پر گیندیں کروارہے تھے جہاں وہ بیٹنگ میں کمزور واقع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین اسٹوکس کے خلاف آراؤنڈ دا وکٹ بولنگ کرنے کا فیصلہ، ایک حکمت عملی کا نتیجہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ بین اسٹوکس نے کریز سے نکل کر شاٹ لگانے کی کوشش کی۔ محمد عباس نے کہا کہ جب بھی کوئی بلے باز ان کے خلاف کریز سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ بولنگ حریف کھلاڑی کو دباؤ کا شکار کررہی ہے، لہٰذا پھر وہ اس مخصوص جگہ پر بولنگ کرتے رہتے ہیں اور نتیجتاً وکٹ مل جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے