سید پرویز قیصر
پاکستان اور انگلینڈ کے مابین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ سائوتھیمپٹن کے دی روز بال میدان پر آج سے شروع ہوگا۔ پاکستان کا اس میدان پر یہ دوسرا ٹیسٹ ہوگا ۔ انگلینڈ نے اس میدان پر ابھی تک جوپانچ ٹیسٹ کھیلے ہیں اس میں دو میں اسے کامیابی ملی ہے، ایک میں شکست ہوئی ہے اوردوٹیسٹ برابر رہے ہیں۔ پاکستان اور انگلینڈ کے مابین سریز کا دوسرا ٹیسٹ اسی میدان پر کھیلا گیا تھا جو بارش کی نذر ہوگیا تھا۔
انگلینڈ نے یہاں پہلا ٹیسٹ جون 2011 میں سری لنکا کے خلاف کھیلا تھا جو کسی فیصلہ کے ختم ہوا تھا۔ پاکستان اور انگلینڈ کے دوسرے ٹیسٹ سے پہلے یہ واحد ٹیسٹ میچ ہے جو اس میدان پر ڈرا رہا ہے۔ انگلینڈ نے جولائی 2014 میںبھارت کے خلاف 266 رن سے کامیابی حاصل کی تھی۔بھارت ہی کے خلاف اگستـ،ستمبر 2018 میں ہوئے ٹیسٹ میں میزبان ٹیم نے 60 رن سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف گذشتہ مہینے کھیلے گئے ٹسٹ میں انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو چار وکٹ سے ہرایا تھا۔
پاکستانی ٹیم کے لیے یہ انگلینڈ میں یہ ساتواں میدان ہے جہاں وہ کوئی ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔پاکستان نے انگلینڈ میں ابھی تک جو55 ٹیسٹ کھیلے ہیں وہ سات مختلف میدانوں پر کھیلے ہیں۔ اس نے سب سے زیادہ ٹیسٹ لندن میں لارڈز کے تاریخٰی میدان پر کھیلے ہیں۔ اس میدان پر پاکستان نے جو15 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اس میں پانچ میں اسے کامیابی ملی ہے، چار میں شکست ہوئی ہے اور چھ ٹیسٹ برابر رہے ہیں۔اوول میں پاکستان نے دس میں سے پانچ ٹیسٹ میچوں میں جیت حاصل کی ہے۔ تین ٹیسٹ میچوں میں اسے شکست ہوئی ہے جبکہ دو ٹیسٹ برابر رہے ہیں۔ مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ میدان پرپاکستان نے سات میں سے ایک ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی ہے۔تین ٹیسٹ میچوں میں اسے شکست ہوئی ہے اورتین ٹیسٹ برابر رہے ہیں۔ہیڈنگلے ،لیڈز پر دس ٹیسٹ میچوں میں سے پاکستان کو ایک میں جیت حاصل ہوئی ہے، چھ ٹیسٹ میچوں میں اسے شکست ہوئی ہے جبکہ تین ٹیسٹ برابر رہے ہیں۔
برمنگھم کا ایجبسٹن اور ناٹنگھم کا ٹرینٹ برج ایسے دو میدان ہیں جہاں پاکستانی ٹیم نے کوئی میچ نہیں جیتا۔ ایجبسٹن، برمنگھم میں اس نے آٹھ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جس میں پانچ میں اسے شکست ہوئی ہے اور تین برابر رہے ہیں۔ٹرینٹ برج ، ناٹنگھم میں پاکستان کو چار میں سے تین میچوں میں ہار کا سامنا کرناپڑا ہے۔اس کا ایک ٹیسٹ اس میدان پر غیر ٖفیصلہ کن رہا ہے۔
لندن کا اوول ایسا واحد اسٹیڈیم ہے جہاں پاکستان نے جیت کے ساتھ شروعات کی ہے۔ اس نے اگست 1954میں اس میدان پر کھیلے گئے اپنے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو24 رن سے شکست دی تھی۔تیز بولنگ کرانے والے فضل محمود نے اس ٹیسٹ میں99 رن دیکر بارہ وکٹ حاصل کیے تھے۔ ٖفضل محمود کی یہ کارکردگی انگلینڈ میں کسی پاکستانی بولر کی ایک میچ میں سب سے اچھی بولنگ کارکردگی ہے۔ کل ملاکر یہ پاکستان کے لیے انگلینڈ کے خلاف دوسری سب سے اچھی بولنگ کارکردگی ہے۔پاکستان کے لیے انگلینڈ کے خلاف سب سے اچھی کارکردگی کا ریکارڈ عبدالقادر کے پاس ہے جنہوں نے لاہور میں تیرہ وکٹ لیے تھے۔
سائوتھیمپٹن میں پاکستانی ٹیم سیریزکا دوسراٹیسٹ کھیلے گی
القمر
