English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امارات کے منہ پر طمانچہ ، مغربی کنارے پر نیا یہودی شہر بسانے کا منصوبہ

مغربی کنارا: یہودی آباد کاری کیخلاف مظاہرے میں مسلمان اسرائیلی چیک پوائنٹ پر نمازِ جمعہ ادا کررہے ہیں‘ چھوٹی تصویر قابض فوج کی فلسطینی پر تشدد کی ہے

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی ذرائع ابلاغ سے لے کر سفارتی حلقوں تک میں آج کل متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کا چرچا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے خلاف عالم اسلام میں شدید ردعمل جاری ہے، جسے ٹھنڈا کرنے کے لیے امارات اور امریکا نے اس معاہدے کو مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کی روک تھام کا بہترین موقع قرار دیا ہے۔ تاہم اس دعوے کے برخلاف صہیونی ریاست 7 دہائیوں سے جاری اپنی غاصبانہ پالیسیوں سے باز آنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک تازہ پیش رفت میں اسرائیلی حکومت نے امارات کے منہ پر طمانچہ مارنے کا سامان کرلیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق دریائے اردن کے مغربی کنارے کو یہودی علاقہ بنانے کے صہیونی منصوبے کے تحت ایک نئے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔ صہیونی حکومت نے مغربی کنارے کے مشرقی اور تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے وادی اردن میں ایک نیا اور وسیع شہر آباد کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ عبرانی ٹی وی چینل 7 نے بتایا ہے کہ صہیونی حکومت نے وژن 2030ء کے تحت اسی نام سے قائم گروپ کو وادی اردن میں نیا شہر آباد کرنے کے منصوبے کی ذمے داری سونپی ہے۔ یہ شہر الون اور موشاف گیٹیٹ یہودی کالونیوں کے قریب آباد کیا جائے گا۔ وادی اردن میں نیا شہر آباد کرنے کے منصوبے کے تحت ابتدائی طور پراس میں 50 ہزار رہایشی مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ عبرانی ٹی وی چینل کے مطابق امنیین تحریک کے سربراہ گیرشون ہکوہین نے اس منصوبے میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس گروپ میں اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ فوجی افسران شامل ہیں۔ ٹی وی چینل کے مطابق وادی اردن میں شہر آباد کرنے کا منصوبہ وادی کے اسرائیل سے الحاق کے پروگرام کا حصہ ہے، مگر فی الوقت اسرائیل نے وادی اردن اور غرب اردن پر اپنی خود مختاری کے قیام کا منصوبہ مؤخر کیا ہے۔ گیرشون ہکوہین کا کہنا ہے کہ وادی اردن میں ایک وسیع وعریض شہر آباد کرنے کے منصوبے پر اسرائیلی ریاست کی تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ انہوںنے صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ وادی اردن میں نیا شہر آباد کرنے کے منصوبے کو جلد حتمی شکل دیں اور اس کی منظوری کے بعد اس کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کریں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے