English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مصر ،حکومت اور جامعہ الازہر میں افتا کونسل پر تنازع

القمر

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر میں پارلیمان اور ملک کی قدیم اور عالمی شہرت یافتہ دینی درس گاہ جامعہ الازہر کے درمیان نئے مسودہ قانون پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ارکان پارلیمان کی جانب سے پیش کردہ ترمیمی بل میں ملک کی افتا کونسل کو جامعہ الازہر سے الگ کرکے ایک آزاد اور خود مختار ادارہ قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ متنازع آئینی ترمیمی بل پر جامعہ الازہر نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دارالافتا کو جامعہ سے الگ کرنا الازہر کی تاریخی دینی اہمیت اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ملکی قانون کے تحت کوئی بھی دینی ادارہ یا افتا کونسل اپنی دینی سرگرمیوں کے دوران جامعہ الازہر سے الگ نہیں ہو سکتی۔ افتا کونسل کو جامعہ الازہر کے ماتحت رہتے ہوئے اپناکام کرنا ہو گا۔ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد طیب نے اسپیکر پارلیمان علی عبدالعال کو ایک خط ارسال کیا ، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ دارالافتا سے متعلق بل پر بحث کے دوران پارلیمان میں موجود رہیں اور اس موقع پر الازہر کے موقف کو بھی سنا جائے۔ انہوں نے بل کو متنازع قرار دینے کے ساتھ اسے دستوری غلطی قرار دیا ،جس کا مقصد جامعہ الازہر کے ذیلی اداروں میں پھوٹ پیدا کرنا اور اس کے اختیارات کو تقسیم کرکے مقابل ایک سرکاری ادارہ قائم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ افتا کونسل شرعی فیصلے صادر سے قبل جامعہ الازہر کے بڑے اور ممتاز علما سے مشاورت کی پابند ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے