طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا کی باغی ملیشیا کے کمانڈرخلیفہ حفتر نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کو مسترد کردیا۔ الجزیرہ کے مطابق باغی ملیشیا کے ترجمان احمد مسماری نے الزام لگایا ہے کہ فوج نے پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہماری فوج ساحلی شہر سرت اور جفرہ میں کسی قسم کے حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ خلیفہ حفتر کی جانب سے لیبیا کی حکومت کے جنگ بندی کے اعلان اور تیل کی رکاؤٹیں ختم کرنے کے مطالبے کے بعد پہلا بیان سامنے آیا ہے، جب کہ اس سے قبل کوئی ردعمل نہیں دیا گیا تھا۔ احمد مسماری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم فائز سراج نے جن اقدامات پر دستخط کیے ہیں، وہ ذرائع ابلاغ میں تشہیر کے لیے ہیں، حالاں کہ سرت میں ہماری فوج پر حملے کے لیے فوج اور اسلحہ جمع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سراج جنگ بندی چاہتے ہیں، تو اپنی فوج کو سرت میں ہماری طرف بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنے کا حکم دیں۔ خیال رہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی علاقے کی پارلیمان کے اسپیکر نے بھی آئینی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔ الجزیرہ کے مطابق لیبیا میں اس سے قبل ہونے والے مذاکرات میں کمانڈر خلیفہ حفتر کا فعال کردار ادا کرتے تھے اور ان کا اہم کردار ہوتا تھا، لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ انہیں غیرفعال کردیا گیا ہے۔ کمانڈر حفتر نے اس سے قبل رواں برس جنوری میں ترکی اور روس کی کوششوں کو بھی مسترد کردیا تھا، جب کہ سراج حکومت نے ماسکو میں معاہدے پر دستخط کرنے کی ہامی بھرلی تھی۔ اس پیش رفت کے بعد ملک میں جنگ چھڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
لیبیا ،حکومت پر باغیوں کی الزام تراشی جنگ چھیڑنے کا خدشہ
القمر
