واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی عالمی جنگ کے دوران فرانس میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کو شکست خوردہ قرار دے دیا۔ امریکی جریدے اٹلانٹک میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صدر پہلی عالمی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے قبرستان جانے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ یہ رپورٹ اٹلانٹک کے ایڈیٹر انچیف جیفری گولڈ برگ نے تحریر کی ہے۔ واقعہ 2018 میں پیش آیا، جب ٹرمپ یورپ کے دورے کے دوران فرانس پہنچے تھے۔ پہلی عالمی جنگ میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی قبریں فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے نواح میں واقع ’این مارنے ‘نامی قبرستان میں ہیں۔ جنگ میں اتحادی فوج کے ہلاک و زخمی ہونے والے 95ہزار فوجیوں میں 16ہزار امریکی تھے۔ چیف ایڈیٹر کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی قبروں پر جانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ قبرستان شکست کھانے والے فوجیوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے وفد کے سینئر اہل کاروں کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے سے پہلے کہی تھی۔ جیفری گولڈ برگ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو پریشانی لاحق تھی کہ بارش اور خراب موسم میں ان کا ہیئر اسٹائل بگڑ کر رہ جائے گا۔ صدر ٹرمپ کو لڑائی میں ہلاک ہونے اور گرفتار ہوجانے والے فوجیوں سے شدید نفرت ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دے دیا۔ ان کے مشیران نے بھی رپورٹ کو من گھڑت، مضحکہ خیز اور جھوٹ کا پلندا قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بارے میںایسی خبریں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ٹرمپ سابق سینیٹر جان میک کین کے ویتنام کی جنگ میں گرفتار ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔ انہوں نے میک کین کو جنگی ہیرو ماننے سے انکار کردیا تھا۔
ٹرمپ نے مقتول امریکی فوجیوں کو شکست خوردہ قرار دے دیا
القمر
