واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن جماعتیں تقریباً 25 لاکھ بھارت نژاد ووٹروں کو دانہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارت نژاد امریکی شہریوں کے ساتھ ایسی اچھی دوستی قائم کر لی ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھارت نژاد امریکی انہی کو ووٹ دیں گے۔ اس سے قبل ایسے ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے تحت ’’فور مور ائرز‘‘ کے عنوان سے ایک وڈیو جاری کی تھی، جس میں ہیوسٹن کے ’’ہاؤڈی موڈی‘‘ اور احمدآباد میں منعقدہ ’’نمستے ٹرمپ‘‘ جیسے پروگراموں میں نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریروں کی جھلکیاں پیش کی گئی تھیں۔ وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران اسی وڈیو سے متعلق ایک سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم ان کے بہت ہی گہرے دوست ہیں۔ ہمیں بھارت سے بڑی حمایت ملی ہے۔ ہمیں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی عظیم حمایت حاصل ہے۔ میں تو یہی سوچوں گا کہ بھارت نژاد امریکی لوگ تو ٹرمپ ہی کو ووٹ دیں گے۔ مودی میرے گہرے دوست ہیں اور وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ آسان تو کچھ بھی نہیں ہے، تاہم انہوں نے اچھا کام کیا ہے۔ ٹرمپ نے مودی کی تعریف ایک ایسے وقت کی ہے جب تباہ حال بھارتی معیشت اور بے روزگاری کی ریکارڈ شرح کے لیے ان پر زبردست نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے ہیوسٹن میں مودی کے ساتھ اپنی ملاقات اور پھر بھارتی ریاست گجرات میں مودی کے ساتھ جلسے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے جس گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا تھا وہ ایک مثال ہے اور وزیر اعظم مودی کی اس سے بڑی فیاضی اور کیا ہوسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مودی ایک بڑے رہنما اور عظیم انسان ہیں۔ صدارتی انتخابات میں سخت مقابلے کے پیش نظر حالیہ ہفتوں میں ڈیموکرٹیک اور ریپبلکن جماعتوں نے بھارت نژاد رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
مودی میرے یار ہیں،بھارت نژاد مجھے ہی ووٹ دیں گے،ٹرمپ
القمر
