جھڈو (نمائندہ جسارت) پران ندی اور سیم نالوں میں شگاف پڑنے کے نتیجے میں تحصیل جھڈو کی 80 فیصد رقبے پر کاشت کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اور سیکڑوں کچے پکے مکانات گر گئے، جبکہ تحصیل کی 4 یونین کونسلیں جن میں روشن آباد، باکھر، فقیر شیر محمد بلالانی اور میر خدا بخش 2 شامل ہے کہ چھوٹے بڑے سیکڑوں دیہات مکمل زیر آب ہیں اور ہرجانب پانی ہی پانی نظر آرہا ہے۔ متاثرین سرکاری اسکولوں کی عمارتوں، سڑکوں کے اطراف اور سیم نالوں کے اونچے پشتوں اور بلند مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں، متاثرین کی اکثریت تاحال خیموں اور صاف پانی سے محروم ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کو خیموں اور راشن کی فراہمی کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے اور متاثرین سیلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ خیمے اور راشن سیاسی سفارش کی بنیادوں پر من پسند متاثرین میں فراہم کیے جارہے ہیں۔ صاف پانی کی عدم فراہمی سے مثاثرین وبائی امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں تاہم محکمہ صحت کی جانب سے متاثرین کے لیے تاحال طبی کیمپس کا انعقاد نہیں کیا گیا ہے، جس سے کیمپوں میں صحت سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ فلاحی ادارے الخدمت فائونڈیشن اور یوتھ آف جھڈو متاثرین میں کھانا، صاف پانی اور ادویات مستقل بنیادوں پر فراہم کررہی ہے۔ دوسری جانب پران ندی اور سیم نالوں میں پانی کی سطح میں ابھی تک کمی آنا شروع نہیں ہوئی ہے، آبپاشی حکام نے پران ندی میں پانی کے بہائو کو تیز کرنے کے لیے تین علیحدہ علیحدہ مقامات سے کٹ لگائے ہیں لیکن پھر بھی پانی کے بہائو میں تیزی اور پانی کی سطح میں کمی واقع نہیں ہوسکی ہے۔ متاثرہ کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل جھڈو کی سیلاب سے تباہ حال زرعی معیشت کو بچانے کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
جھڈو ،پر ان ندی اور سیم نالوں میں شگاف ،متاثرین بے یارو مدد گار
القمر
