ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عدالت نے تُرکی میں قتل کیے گئے صحافی جمال خاشق جی کے کیس کو نمٹادیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق خاشق جی کے بیٹوں کی طرف سے معافی کے بعد عدالت نے مجرموں کی سزائے موت پر نظر ثانی کر کے اسے عمر قید میں تبدیل کردیا۔ اس سے قبل عدالت نے خاشق جی کے 5قاتلوں کی سزائے موت ختم کرکے 20سال میںتبدیل کردیا۔ اس کے علاوہ ایک مجرم کو 10سال جب کہ دیگر 2 کو 7 سال کی سزاسنائی۔ ریاض میں جرائم کی عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران 8افراد کو سنانے کے بعد امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھنے والے اور سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خاشق جی کے قتل کا کیس بند کردیا۔ واضح رہے کہ خاشق جی کے بیٹوں مبینہ طور پر حکومت دباؤ کے تحت مئی میں اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیا تھا اور عدالت کا حالیہ فیصلہ اسی کی ایک کڑی تھی۔ جمال خاشق جی کو 2اکتوبر 2018 ء کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے قتل میں ایک خصوصی ٹیم ملوث تھی،جسے سعودی عرب سے بھیجا گیا تھا۔ قتل کی یہ کارروائی ایک عرصے تک ذرائع ابلاغ کا موضوع بنی رہی۔
خاشق جی کے قاتلوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
القمر
