کابل (آن لائن) افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ طالبان اگر اب امن بات چیت سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو یہ امن کے چہرے پر ایک تھپڑ کے مترادف ہوگا‘طالبان اب مزید رعایتیں لینے کے لیے ’’تشدد‘‘ کو بروئے کار لاسکتے ہیںوہ جو بھی اقدام کریں گے تو اس سے امن عمل پیچیدگی کا شکار ہوجائے گا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن کا مطلب ان کے سامنے ہتھیار ڈالنا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے صدر اشرف غنی کی مقرر کردہ ٹیم اور طالبان کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں شروع ہو رہے ہیں تاہم تاریخ میں یہ امن مذاکرات سب سے مشکل ثابت ہوں گے‘ بعض حوالوں سے تو یہ مذاکرات عرب امن عمل سے بھی زیادہ پیچیدہ ثابت ہوں گے کیونکہ بہت زیادہ خون خرابہ اور تقسیم پیدا ہوچکی ہے‘ اس تقسیم درتقسیم پر قابو پانا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔
مذاکرات عرب امن عمل سے بھی زیادہ مشکل ہونگے، افغان نائب صدر
القمر
