کابل (آن لائن) افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ طالبان اگر اب امن بات چیت سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو یہ امن کے چہرے پر ایک تھپڑ کے مترادف ہوگا‘طالبان اب مزید رعایتیں لینے کے لیے ’’تشدد‘‘ کو بروئے کار لاسکتے ہیںوہ جو بھی اقدام کریں گے تو اس سے امن عمل پیچیدگی کا شکار ہوجائے گا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن کا مطلب ان کے سامنے ہتھیار ڈالنا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے صدر اشرف غنی کی مقرر کردہ ٹیم اور طالبان کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں شروع ہو رہے ہیں تاہم تاریخ میں یہ امن مذاکرات سب سے مشکل ثابت ہوں گے‘ بعض حوالوں سے تو یہ مذاکرات عرب امن عمل سے بھی زیادہ پیچیدہ ثابت ہوں گے کیونکہ بہت زیادہ خون خرابہ اور تقسیم پیدا ہوچکی ہے‘ اس تقسیم درتقسیم پر قابو پانا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- دہلی میں 75 سال میں اکتوبر کا سب سے سرد دن کل تھا!
- سی پی سی بی کا دہلی-این سی آر میں آلودگی کنٹرول کرنے والے آلات کے بغیر چلنے والی صنعتی اکائیوں کو بند کرنے کا حکم
- اندرا گاندھی کی برسی: ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے ’شکتی استھل‘ پر پیش کیا خراجِ عقیدت
- ’ہمارے سائنس داں مسلسل ملک کا سر فخر سے بلند کر رہے ہیں‘ اسرو کی کامیابی پر وزیر اعظم مودی نے دی مبارک باد
- گوگل کے دو نئے اے آئی ماڈلز متعارف، سائبر سیکیورٹی اور ورچوئل دنیا پر توجہ