English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی اور یونان کے فوجی وفود کے مذاکرات ملتوی

القمر

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی اور یونان کے فوجی وفود کے مابین اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ تُرک وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق صدر رجب طیب اردوان اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ کے درمیان بات چیت میں دونوں ممالک کے فوجی وفود کے مابین منگل کے روز ملاقات کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم نیٹو ہیڈ کوارٹر میں طے شدہ یہ مذاکرات کل جمعرات 10 ستمبر تک ملتوی کردیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی جانب سے تیل اور گیس کی تلاش کے اقدامات کے بعد یونان سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یونانی حکومت ترکی کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں جدید اسلحہ خریدنے اور اپنی فوج کو جدید ترین اسلحہ وجنگی آلات فراہم کرنے کے لیے زور لگا رہی ہے۔ یونانی حکومت نے ملک میں موجود دفاعی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بھی منصوبہ شروع کردی ہے۔ تاہم اس تمام تناظر میں اہم ترین بات یہ ہے کہ یونان 2018ء میں دنیا کے تیسرے بڑے اقتصادی بحران سے باہر نکلا ہی تھا کہ رواں سال اسے کورونا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کورونا کی وبا کے ساتھ ہی ترکی کے ساتھ اس کی کشیدگی شروع ہوگئی اور اب یونان کو اربوں یورو دفاع پر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ یونان کے سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ تُرک قیادت روز ہیجنگ کی دھمکیاں دیتی ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ یونان اپنی مسلح افواج کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں سے بات کر رہا ہے۔ ایک یونانی سرکاری عہدے دار نے گزشتہ ہفتے رائٹرز کو بتایا تھا کہ یونان جنگی طیارے خریدنے کے لیے فرانس اور دیگر ممالک کے ساتھ بات کر رہا ہے۔یونان کئی دہائیوں سے اپنی خسارے میں آنے والی دفاعی کمپنیوں کو ضم اور ان کی نجکاری کی کوشش کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے